فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، تین پالیسی سازوں کا اختلاف
- متوقع فیصلے کے مطابق فیڈرل ریزرو نے اپنی بنیادی شرحِ سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کی حد میں برقرار رکھا
امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرحِ سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تاہم اس فیصلے سے یہ سوالات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں کہ امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کیون وارش مہنگائی کو دوبارہ 2 فیصد کے ہدف تک لانے کے اپنے عزم کو کس طرح عملی جامہ پہنائیں گے۔
متوقع فیصلے کے مطابق فیڈرل ریزرو نے اپنی بنیادی شرحِ سود کو 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کی حد میں برقرار رکھا تاہم پالیسی سازی کرنے والی فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے 12 میں سے 3 ارکان نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اس اجلاس میں شرحِ سود میں 0.25 فیصد (25 بیسس پوائنٹس) اضافے کی حمایت کی۔
یہی تین ارکان یعنی فیڈ کے کلیولینڈ، ڈلاس اور منیاپولس کے علاقائی بینکوں کے صدور اپریل کے آخر میں جیروم پاول کی بطور فیڈ چیئرمین آخری پالیسی میٹنگ میں بھی اختلافی نوٹ دے چکے تھے۔ اس وقت انہوں نے مستقبل میں شرحِ سود میں کمی کے عندیے کو ختم کرنے کی حمایت کی تھی۔
مئی میں فیڈرل ریزرو کے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے والے کیون وارش کہہ چکے ہیں کہ انہیں ایسی مہنگائی ہرگز قابلِ قبول نہیں جو پانچ برس سے زائد عرصے سے مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے اوپر برقرار ہے۔ گزشتہ ماہ تک مہنگائی میں مزید تیزی آرہی تھی کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق دیگر اخراجات نے بھی طلب میں اضافہ کر دیا۔
فیڈرل ریزرو نے اپنے تازہ دو روزہ اجلاس کے اختتام پر جاری مختصر پالیسی بیان میں کہا کہ مہنگائی اب بھی کمیٹی کے مقررہ 2 فیصد ہدف کے مقابلے میں بلند سطح پر برقرار ہے۔فیڈ نے معیشت سے متعلق اپنی تشخیص میں 17 جون کے پالیسی بیان کی عبارت کو لفظ بہ لفظ برقرار رکھا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
فیڈرل ریزرو نے کہا کہ امریکی معاشی سرگرمیاں مضبوط رفتار سے فروغ پا رہی ہیں۔ مرکزی بینک نے جون کے بیان کی طرح اس بار بھی کہا کہ روزگار میں اضافہ افرادی قوت میں ہونے والے اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہا ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح میں بہت معمولی تبدیلی آئی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں نے دسمبر سے 3.50 سے 3.75 فیصد کی شرحِ سود کو برقرار رکھتے ہوئے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ بلند قرض گیری لاگت معیشت میں اتنا دباؤ پیدا کررہی ہے جو ایسی مہنگائی کو کم کرنے کے لیے کافی ہے جو اشیا کی قیمتوں پر عائد ٹیرف کے عارضی اثرات کے برعکس خود بخود ختم ہونے کی توقع نہیں رکھتی۔


Comments