اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس تقریباً 1600 پوائنٹس گرگیا
- بنچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 176,042.98 پوائنٹس کی سطح پر بند
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ میں حالیہ دنوں کے نسبتاً پُرسکون ماحول کو مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے نئے حملوں نے تہس نہس کردیا جس کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید مندی اور فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا۔ اس دوران بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس تقریباً 1600 پوائنٹس تک گرگیا۔
تفصیلات کےمطابق دن بھر جاری رہنے والے مسلسل فروخت کے دباؤ نے وقفے وقفے سے ہونے والی خریدو فروخت کو پیچھے چھوڑ دیا۔تجارتی دن کے آغاز میں مندی اور دوپہر کی بحالی کے بعد آخری گھنٹے میں دوبارہ شروع ہونے والی فروخت نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 175,631.74 کے قریب پہنچا دیا، جو خریداروں کی وقفے وقفے سے دلچسپی کے باوجود سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,580.90 پوائنٹس یعنی 0.89 فیصد کی کمی کے ساتھ 176,042.98 کی سطح پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے بعد کی اپنی رپورٹ میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہ ہو سکا۔ شدید غیر یقینی کی صورتِ حال کے باعث بڑے شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت شروع ہو گئی، جس نے مخصوص حصص میں خریداری کی دلچسپی کو بھی دبا دیا۔
ٹاپ لائن کے مطابق منفی پہلو پر یو بی ایل، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز، حب پاور اور پی پی ایل سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 669 پوائنٹس کم کر دیے۔
یاد رہے کہ منگل کو اسٹاک ایکسچینج مندی کے ساتھ بند ہوئی کیونکہ پیر کے روز ہونے والی زبردست تیزی کے بعد سرمایہ کاروں نے پرافٹ ٹیکنگ کو ترجیح دی۔ گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 638.45 پوائنٹس یعنی 0.36 فیصد کی کمی سے 177,623 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں ایک دن پہلے کی شدید فروخت کے بعد دوبارہ بہتری دیکھی گئی۔ اس سے قبل حصص کی بلند قیمتوں، بڑھتے ہوئے مسابقتی دباؤ اور مصنوعی ذہانت پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے متعلق خدشات نے مارکیٹوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سرمایہ کار بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اہم مالی نتائج اور امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی فیصلے سے قبل محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔
ایشیائی چِپ ساز کمپنیاں اس سال مصنوعی ذہانت سے چلنے والی اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کا مرکز رہی ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں سرمایہ کاروں کو اس تیزی کے برقرار رہنے پر خدشات لاحق ہوئے جس کے باعث مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ تاہم ایس کے ہائینکس کے مضبوط مالی نتائج نے ان خدشات کو کسی حد تک کم کر دیا۔
منگل کو تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچنے اور 10 فیصد سے زائد گرنے کے بعد، بدھ کو ابتدائی ٹریڈنگ میں جنوبی کوریا کے کاپسی انڈیکس میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائینکس کے شیئرز میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں بدھ کو 0.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ منگل کو اس میں 3.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ تاہم یہ انڈیکس اب بھی جولائی کے مہینے میں مجموعی طور پر 6.6 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے۔ ادھر جاپان کے نکی انڈیکس میں 1 فیصد اضافہ ہوا لیکن اس کے باوجود جولائی کے دوران تقریباً 10 فیصد ماہانہ کمی کا امکان برقرار ہے۔
آج کے دن کے آخری حصے میں میگنیفیسنٹ سیون کے اراکین مائیکروسافٹ اور میٹا کے آمدنی کے نتائج آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کی تجارت کا ایک اہم امتحان ہوں گے، خاص طور پر گزشتہ ہفتے الفابیٹ اور ٹیسلا کی منفی کیش فلو رپورٹوں کے بعد سرمایہ کاروں میں پھیلی تشویش کے منظرنامے میں۔
علاوہ ازیں پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کی طرف گامزن رہا اور بدھ کو اس کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مقامی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.82 پر بند ہوا۔تمام شیئرز (آل شیئر) انڈیکس میں تجارتی حجم پچھلے سیشن کے 958.01 ملین سے کم ہو کر 574.07 ملین شیئرز رہ گیا۔شیئرز کی مالیاتی قدر پچھلے سیشن کے 41.57 ارب روپے کے مقابلے میں گر کر 25.37 ارب روپے پر آ گئی۔سینرجیکو پی کے 58.66 ملین شیئرز کے ساتھ والیوم لیڈر رہا، جس کے بعد صدیق سنز ٹن 50.22 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کام 48.95 ملین شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
بدھ کو 495 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 129 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 330 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 36 کمپنیوں کے شیئرز مستحکم رہے۔


Comments