جب تردیدیں غیر مؤثر ہوجائیں
- امریکہ میں حال ہی میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے پیش کیا جانے والا وہ قانون، جس کا مقصد سرحد پار جبر کو جرم قرار دینا ہے، درحقیقت تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے
وہ ریاستیں جو اپنی سرحدوں سے باہر خفیہ کارروائیاں کرتی ہیں، عموماً ایک مفروضے پر انحصار کرتی ہیں کہ قابل فہم تردید شواہد سے زیادہ قائم رہے گی۔ لیکن جب تفتیش کار، استغاثہ کے حکام اور قانون ساز الگ الگ واقعات سے آگے بڑھ کر ایسے نمونوں کو جوڑنا شروع کرتے ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہوں، تو اس مفروضے کو برقرار رکھنا بتدریج مشکل ہوتا جاتا ہے۔
امریکہ میں حال ہی میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت سے پیش کیا جانے والا وہ قانون، جس کا مقصد سرحد پار جبر کو جرم قرار دینا ہے، درحقیقت اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن اب غیر ملکی دھمکیوں اور خوف و ہراس پھیلانے کے الزامات کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھ رہا، بلکہ انہیں اپنی خودمختاری اور قانون کی حکمرانی کے لیے ایک وسیع تر چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کر چکا ہے۔
مجوزہ اسٹاپ ٹرانس نیشنل ریپریشن ایکٹ 2026 پہلی مرتبہ اس نوعیت کے اقدامات کو ایک علیحدہ وفاقی جرم قرار دے گا، جس کے ذریعے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے غیر ملکی حکومتوں یا ان کے ایجنٹوں کی تحقیقات اور ان کے خلاف مقدمات چلائیں جو امریکہ میں مقیم ناقدین کو دھمکانے، خوفزدہ کرنے یا انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں۔
اگرچہ یہ قانون عمومی نوعیت کا ہے اور تمام ممالک پر یکساں لاگو ہوگا، تاہم اس کے فوری سیاسی پس منظر کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ امریکی کانگریس میں اس معاملے پر اس وقت سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جب یہ الزامات سامنے آئے کہ بھارتی ریاست سے منسلک افراد شمالی امریکہ میں سکھ کارکنوں کو نشانہ بنانے کی سازشوں میں ملوث تھے۔ ان الزامات کے نتیجے میں امریکی محکمہ انصاف نے فوجداری مقدمات قائم کیے، جبکہ کینیڈا میں بھی متوازی تحقیقات جاری ہیں۔ بھارت نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنی داخلی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
یہ عدالتی کارروائیاں بالآخر فوجداری ذمہ داری ثابت کرتی ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ تاہم اس معاملے کی وسیع تر سیاسی اہمیت پہلے ہی نمایاں ہو چکی ہے۔
برسوں سے بھارت نے عالمی سطح پر اپنی شناخت ایک ذمہ دار جمہوری طاقت کے طور پر قائم کی ہے، جو قانون کی حکمرانی کے اصولوں کی پابند ہے۔
ایسے میں اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں کہ بھارتی ریاستی اداروں نے اپنے مخالفین کو سرحدوں سے باہر جا کر نشانہ بنایا، تو اس کے اثرات صرف انفرادی فوجداری مقدمات تک محدود نہیں رہیں گے۔ بلکہ اس سے یہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ریاستیں کن طریقوں کا استعمال کر رہی ہیں، اور آیا وہ ان مقاصد کو غیر ملکی سرزمین پر ایسی کارروائیوں کا جواز سمجھتی ہیں یا نہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں ایک وسیع تر طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد متعدد بار بھارتی خفیہ اداروں پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کی سرپرستی اور مالی معاونت کرتے ہیں، تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہیں اور خفیہ ذرائع سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر ان الزامات کو اکثر پاک بھارت رقابت کے تناظر میں دیکھ کر مسترد کر دیا گیا، اور بہت سے مبصرین نے انہیں جنوبی ایشیا کی روایتی کشیدگی سے ہٹ کر سنجیدگی سے جانچنے سے گریز کیا۔
تاہم حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب شاید یہ طرزِ فکر کافی نہیں رہا۔
جب خود امریکہ اور کینیڈا بھارتی ریاست سے منسلک عناصر پر مبینہ کارروائیوں کی تحقیقات شروع کر دیتے ہیں تو گفتگو کا رخ لازماً تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد یہ معاملہ صرف دو ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک دوطرفہ تنازع نہیں رہتا، بلکہ ان ممالک کے قانونی نظام، سلامتی کے اداروں اور خودمختاری کا معاملہ بن جاتا ہے جو روایتی طور پر نئی دہلی کے قریبی اسٹریٹجک شراکت دار رہے ہیں۔ یہی فرق اس لیے اہم ہے کہ اس سے جنوبی ایشیا سے باہر بھی بین الاقوامی نگرانی کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔
جدید بین الاقوامی تعلقات باہمی خودمختاری کے احترام پر قائم ہیں۔ کوئی بھی ریاست ایک طرف تو قواعد پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کا دعویٰ نہیں کر سکتی اور دوسری طرف ایسی خفیہ کارروائیوں کو برداشت بھی نہیں کر سکتی جن کا مقصد بیرونِ ملک سیاسی مخالفین کو ڈرانا دھمکانا یا ختم کرنا ہو۔ اگر اس طرح کے اقدامات معمول بن جائیں تو ہر ملک غیر ملکی خفیہ اداروں کی رقابتوں کا میدان بننے کا خطرہ مول لے گا، جہاں کارروائیاں قانونی دائرہ کار سے باہر انجام دی جائیں گی۔
یہی اصول ہر اس ریاست پر یکساں لاگو ہوتا ہے جو ایسے طریقے اختیار کرے۔
چاہے ایسی کارروائیاں بھارت کرے، اسرائیل کرے یا کوئی اور ملک، سرحد پار جبر بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتا ہے، سفارتی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے اور بے گناہ افراد کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
جمہوری معاشرے اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ غیر ملکی حکومتیں اپنی سیاسی جبر و دباؤ کی پالیسیوں کو ان کی سرزمین تک برآمد کریں، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ قانونی تحفظات خود کمزور ہو جائیں گے جو آئینی طرزِ حکمرانی کو من مانی طاقت سے ممتاز بناتے ہیں۔
لہٰذا امریکہ میں پیش کیا جانے والا یہ مجوزہ قانون محض ایک نیا فوجداری قانون نہیں، بلکہ ایک اہم اشارہ بھی ہے کہ وہ حکومتیں جو ماضی میں وسیع تر اسٹریٹجک تعلقات کی خاطر ایسے الزامات کو نظر انداز کرتی رہی ہیں، اب شاید اس بات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہیں کہ ریاستی طرزِ عمل کی قابلِ قبول حدود کہاں تک ہونی چاہییں۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنے خدشات کو ثبوت، سفارت کاری اور تسلیم شدہ بین الاقوامی فورمز کے ذریعے مسلسل پیش کرتا رہے۔
سنگین الزامات کے لیے سنگین شواہد درکار ہوتے ہیں، اور بین الاقوامی سطح پر کسی بھی ملک کی ساکھ کا انحصار بالآخر حقائق ثابت کرنے پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف دعوے کرنے پر۔
اگر ابھرنے والی یہ بین الاقوامی جانچ پڑتال دنیا میں جہاں کہیں بھی سرحد پار جبر ہو رہا ہے، اس کے غیر جانبدارانہ اور معروضی جائزے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، تو اس سے نہ صرف بین الاقوامی قانون مضبوط ہوگا بلکہ یہ اصول بھی مستحکم ہوگا کہ کوئی بھی ریاست، خواہ وہ کتنی ہی بڑی یا اسٹریٹجک اہمیت کی حامل کیوں نہ ہو، ان قواعد و ضوابط سے بالاتر نہیں ہو سکتی جن کی پابندی کی توقع وہ دوسروں سے رکھتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments