BR100 Increased By (1.91%)
BR30 Increased By (2.79%)
KSE100 Increased By (1.56%)
KSE30 Increased By (1.67%)
BAFL 56.76 Increased By ▲ 0.71 (1.27%)
BIPL 24.71 Increased By ▲ 0.21 (0.86%)
BOP 29.72 Increased By ▲ 0.83 (2.87%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.72 (5.9%)
DFML 16.91 Increased By ▲ 0.20 (1.2%)
DGKC 186.97 Increased By ▲ 3.97 (2.17%)
FABL 93.53 Increased By ▲ 1.19 (1.29%)
FCCL 51.85 Increased By ▲ 1.85 (3.7%)
FFL 13.99 Increased By ▲ 0.17 (1.23%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.59 (3.16%)
HBL 302.83 Increased By ▲ 7.62 (2.58%)
HUBC 201.33 Increased By ▲ 5.76 (2.95%)
HUMNL 9.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.72 Increased By ▲ 0.42 (1.66%)
MLCF 91.29 Increased By ▲ 3.05 (3.46%)
OGDC 317.05 Increased By ▲ 6.71 (2.16%)
PAEL 33.98 Increased By ▲ 0.97 (2.94%)
PIBTL 13.57 Increased By ▲ 0.38 (2.88%)
PIOC 236.64 Increased By ▲ 5.63 (2.44%)
PPL 221.12 Increased By ▲ 4.64 (2.14%)
PRL 94.38 Increased By ▲ 6.96 (7.96%)
SNGP 90.69 Increased By ▲ 2.62 (2.97%)
SSGC 23.07 Increased By ▲ 0.59 (2.62%)
TELE 7.24 Increased By ▲ 0.27 (3.87%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 55.34 Increased By ▲ 3.89 (7.56%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
کاروبار اور معیشت

حکومت سے مذاکرات کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال مؤخر کر دی

  • علی پرویز ملک نے پٹرولیم ڈیلرز کو دو ہفتوں میں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرا دی
شائع اپ ڈیٹ

آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) نے بدھ کو حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ملک گیر ہڑتال دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے ساتھ ایک اور دور کے مذاکرات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے آئندہ دو ہفتوں میں پٹرولیم ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر ہڑتال مؤخر کر دی جائے۔

انہوں نے کہا، ”28 فروری سے آج تک حکومت نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب روپے خرچ کیے ہیں، جبکہ معاشرے کے انتہائی کمزور طبقے کے لیے سبسڈی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔“

وزیر مملکت نے یہ بات امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے، جب ایسوسی ایشن نے یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد بدھ کی شب سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔

علی پرویز ملک نے کہا، ”خطے پر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ اس صورتحال پر ان کی آل پاکستان پٹرولیم پمپ اونرز ایسوسی ایشن (اے پی پی پی او اے) کے عہدیداروں سے بات ہوئی، جنہوں نے حکومتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایران اور امریکا دونوں کے حکام سے رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی کم کرنے میں مدد دی جا سکے۔

پٹرول پمپ مالکان کے تحفظات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کے مارجن کا معاملہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے گا، جبکہ اس حوالے سے ایک سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھی پیش کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دو ہفتے بعد پٹرولیم شعبے کے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد یومیہ بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کا بھی جائزہ لے گی۔

گزشتہ ہفتے علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اسی روز سے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ ایندھن کی قیمتیں جاری کرے گی، جبکہ شفافیت بڑھانے کے لیے قیمتوں کی تفصیلی وضاحت اردو زبان میں بھی فراہم کی جائے گی۔

Comments

200 حروف