وزیراعظم نے روہڑی تا ملتان ایم ایل ون اپ گریڈیشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کردی
- شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایم ایل ون کے روہڑی تا ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق یہ ہدایت انہوں نے آج اسلام آباد میں پاکستان ریلویز ٹرانسفارمیشن پلان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی۔روہڑی ملتان سیکشن پاکستان ریلویز کے ایم ایل-1 منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بڑے پیمانے پر اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پشاور سے کراچی تک 1,733 کلومیٹر طویل ڈبل ریلوے ٹریک قائم کرنا ہے۔اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری دونوں کے لیے سب سے سستا اور موثر ذریعہ نقل و حمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جدید اور فعال ریلوے نظام قومی معیشت کو مضبوط بنانے، تجارت کو فروغ دینے اور علاقائی روابط بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔انہوں نے ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کو اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھتے ہوئے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس کو ایم ایل-1 اور ایم ایل-3 کی اپ گریڈیشن، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی پروجیکٹ اور دیگر جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ایل-1 کے کراچی تا روہڑی سیکشن کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ایم ایل-3 کے روہڑی تا نوکنڈی سیکشن کی اپ گریڈیشن پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور برج فنانسنگ کے تحت کی جائے گی۔مزید برآں تھر کول فیلڈز سے چھور ریلوے اسٹیشن تک 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کا کام 60 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور یہ دسمبر 2026ء تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر ریلوے اصلاحات کے نفاذ کے لیے ایک بین الاقوامی مشیر (کنسلٹنٹ) کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ پاکستان ریلویز کے تحت چلنے والے اسکولوں اور اسپتالوں کو پہلے ہی آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جبکہ اب چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔


Comments