اسرائیلی امداد کی بندش کی قرارداد مسترد، امریکی ڈیموکریٹ ارکان میں پھوٹ
امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو اسرائیل کو دی جانے والی امداد بند کرنے سے متعلق ایک ترمیم مسترد کر دی، اگرچہ تقریباً نصف ڈیموکریٹ ارکان نے اس کی حمایت کی۔ یہ پیشرفت غزہ پر اسرائیلی حملوں کے معاملے پر امریکی پروگریسو حلقوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔
ایوانِ نمائندگان نے 314 کے مقابلے میں 104 ووٹوں سے یہ اقدام مسترد کر دیا۔ یہ ترمیم کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی نے محکمہ خارجہ کے اخراجات سے متعلق بل میں پیش کی تھی۔
تاہم 103 ڈیموکریٹ ارکان اور ایک ریپبلکن رکن نے اس ترمیم کی حمایت کی جو گزشتہ کئی برسوں کی اس روایت سے نمایاں تبدیلی ہے جب اسرائیل کی حمایت سے متعلق بل تقریباً متفقہ طور پر منظور ہوتے رہے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ ارکان مڈٹرم الیکشن کی ابتدائی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے لیے امریکی امداد ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ اعتدال پسند ڈیموکریٹ صرف ایسی مالی امداد بھیجنے کے حامی ہیں جو محض دفاعی ہتھیاروں کے لیے استعمال کی جائے۔
تھامس میسی جو حکومتی اخراجات میں سخت کفایت کے حامی ہیں تمام قسم کی غیر ملکی امداد کی مخالفت کرتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی یہ ترمیم غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہریوں کی بھاری جانی نقصان کے تناظر میں بھی پیش کی گئی۔ ایوانِ نمائندگان میں بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ غزہ میں 70 ہزار جانی نقصان ہو چکا ہے اور میرا نہیں خیال کہ ہمیں اس کا حصہ بننا چاہیے۔
میسی کی پیش کردہ ترمیم کے تحت مختص فنڈز کے بل میں شامل کوئی بھی رقم اسرائیل کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی تھی جس کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے اسرائیل کو سالانہ فراہم کی جانے والی 3.3 ارب ڈالر کی سکیورٹی امداد بھی روک دی جاتی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں جنگجوؤں نے اسرائیل پر سرحد پار حملہ کیا جس میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد اسرائیل کی غزہ پر فوجی کارروائیوں میں 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہوچکا ہے۔ تقریباً 20 لاکھ آبادی میں سے بیشتر افراد کئی بار بے گھر ہوچکے ہیں اور اب ساحلی علاقے کی ایک محدود پٹی میں عارضی خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اسرائیل کے حوالے سے بدلتے خیالات
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ اگر ایوانِ نمائندگان سے منظور بھی ہو جاتی تو زیادہ تر علامتی ہی رہتی۔ قانون بننے کے لیے اسے سینیٹ سے پاس ہونا پڑتا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یقینی ویٹو کو مسترد کرنا پڑتا جنہوں نے اسرائیل کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی جزو بنا رکھا ہے۔
اسرائیل کو ملنے والی فوجی امداد اور اسرائیل کے حامیوں کی جانب سے امریکی سیاسی امیدواروں کو دیے جانے والے انتخابی عطیات اس سال ڈیموکریٹس کے لیے ایک متنازع معاملہ بنے ہوئے ہیں۔
امریکی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اسرائیل پر تنقید ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ میسی کی ترمیم کا مقصد 2016 کے مفاہمتی یادداشت میں شامل سالانہ فنڈنگ کو ختم کرنا تھا جو 2028 تک نافذ العمل ہے۔
ستمبر 2016 میں ایوانِ نمائندگان نے اس ایم او یو کی حمایت میں 4 کے مقابلے میں 405 ووٹوں سے قرارداد منظور کی تھی۔
امیدواروں نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی مخالفت اور یہاں تک کہ اسرائیل کے وجود کے حق پر سوال اٹھانے سمیت مختلف ترقی پسند مسائل پر مہم چلا کر حیران کن کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
یہ معاملہ پارٹی رہنماؤں کے درمیان بھی تقسیم کا باعث بنا ہے۔ نیویارک سے ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے منگل کو کہا کہ وہ میسی کی ترمیم کی مخالفت کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بہت وسیع ہے۔
لیکن بدھ کے روز ایوان میں ڈیموکریٹس کی دوسرے نمبر کی رہنما میساچوسٹس کی نمائندہ کیتھرین کلارک نے کہا کہ وہ اس کی حمایت کریں گی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں کسی بھی ایسے ملک کو فوجی امداد کا بلینک چیک نہیں دینا چاہیے جو امریکی قانون، مفادات اور اقدار کی تعمیل نہیں کرتا۔


Comments