کیمپ مسٹک سانحے کے ایک سال بعد ٹیکساس دوبارہ سیلابی ایمرجنسی کی لپیٹ میں
- یہ وہی خطہ ہے جہاں جولائی 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں تقریباً 140 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے
ٹیکساس میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث دریا بپھر گئے، 100 سے زائد سڑکیں بہہ گئیں اور درجنوں افراد کو ریسکیو کرنا پڑا۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں بدھ کے روز فلیش فلڈ کے خدشے کے پیش نظر وسیع علاقے میں الرٹ جاری کر دیا گیا۔ شدید بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی آ گئی اور کئی علاقے زیر آب آ گئے۔
ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ نیوئیسز دریا کا طاس ہے، جو سان انتونیو کے شمال مغرب سے شروع ہو کر جنوبی ٹیکساس تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ وہی خطہ ہے جہاں جولائی 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں تقریباً 140 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں کیمپ مسٹک کے 27 بچے بھی شامل تھے۔
گورنر نے بتایا کہ موجودہ سیلاب میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم 75 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ڈرائیور تھے۔
ریاستی حکام کے مطابق شدید بارشوں کے باعث کم از کم 114 سڑکیں اور شاہراہیں متاثر ہوئیں، جبکہ بعض علاقوں میں ایک گھنٹے کے دوران تین انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ پیر سے شروع ہونے والی بارشوں نے کئی علاقوں میں 10 سے 15 انچ بارش برسائی، جبکہ مزید بارشوں کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔
گورنر ایبٹ نے 59 کاؤنٹیز میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کے لیے 1,300 اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ایریزونا اور یوٹاہ کی بعض ریاستوں کے لیے بھی فلیش فلڈ الرٹ جاری کیا ہے۔


Comments