BR100 Increased By (1.78%)
BR30 Increased By (1.82%)
KSE100 Increased By (1.64%)
KSE30 Increased By (1.65%)
BAFL 57.79 Increased By ▲ 0.76 (1.33%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
BOP 34.15 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 9.60 Increased By ▲ 0.03 (0.31%)
DFML 18.70 Increased By ▲ 0.37 (2.02%)
DGKC 212.29 Increased By ▲ 5.49 (2.65%)
FABL 100.25 Increased By ▲ 1.28 (1.29%)
FCCL 54.25 Increased By ▲ 2.37 (4.57%)
FFL 16.80 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
GGL 23.60 Increased By ▲ 0.12 (0.51%)
HBL 309.11 Increased By ▲ 5.79 (1.91%)
HUBC 220.91 Increased By ▲ 3.39 (1.56%)
HUMNL 10.89 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.56 Increased By ▲ 0.13 (1.75%)
LOTCHEM 30.75 Increased By ▲ 0.17 (0.56%)
MLCF 98.23 Increased By ▲ 2.56 (2.68%)
OGDC 323.85 Increased By ▲ 2.86 (0.89%)
PAEL 42.15 Increased By ▲ 0.77 (1.86%)
PIBTL 16.99 Increased By ▲ 0.22 (1.31%)
PIOC 284.50 Increased By ▲ 21.65 (8.24%)
PPL 226.25 Increased By ▲ 2.05 (0.91%)
PRL 42.00 Increased By ▲ 0.60 (1.45%)
SNGP 107.99 Increased By ▲ 3.86 (3.71%)
SSGC 28.99 Increased By ▲ 0.58 (2.04%)
TELE 8.75 Increased By ▲ 0.06 (0.69%)
TPLP 12.62 Increased By ▲ 0.49 (4.04%)
TRG 58.90 Increased By ▲ 1.27 (2.2%)
UNITY 9.90 Increased By ▲ 0.19 (1.96%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
بی آر ریسرچ

ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے بہتر گورننس ناگزیر

  • پاکستان میں معاشی مباحثہ اب بھی ایک ایسی تسلی بخش سوچ کے گرد گھومتا ہے جس میں ہر مسئلے کی ایک ہی وجہ اور ایک ہی حل تلاش کیا جاتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں معاشی مباحثہ اب بھی ایک ایسی تسلی بخش سوچ کے گرد گھومتا ہے جس میں ہر مسئلے کی ایک ہی وجہ اور ایک ہی حل تلاش کیا جاتا ہے۔ اگر قرض سستا ہو جائے تو چھوٹے کاروبار ترقی کریں گے۔ اگر ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنا دیا جائے تو کاروبار دستاویزی ہو جائیں گے۔ اگر ہوٹل بہتر ہو جائیں تو سیاح آ جائیں گے۔ اگر کارکنوں کو تربیت دی جائے تو برآمدات بڑھ جائیں گی۔ اگر کاروبار کی رجسٹریشن آسان بنا دی جائے تو غیر رسمی معیشت سکڑ جائے گی۔

ان میں سے ہر تجویز میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور موجود ہے، لیکن اصل غلطی یہ سمجھنے میں ہے کہ نظام کے صرف ایک حصے کو درست کر دینے سے پورے نظام کی خرابی کی تلافی ہو سکتی ہے۔

مصنف کے حالیہ دورے جو دیہی سندھ، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان تک پھیلے ہوئے تھے، پاکستان کو ایک ٹیکنالوجی سے محروم اور نقدی پر انحصار کرنے والی معیشت قرار دینے والے روایتی تصور کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

کنری، میرپورخاص اور ٹنڈو اللہ یار کے اطراف کی چھوٹی بستیوں سے لے کر اسکردو اور گلگت بلتستان کے علاقے گل مت کے دور دراز قصبوں اور دیہات تک نقد رقم کی ضرورت شاذ و نادر ہی محسوس ہوئی۔

سڑک کنارے دکانیں، چھوٹے ریستوران، غیر رسمی خدمات فراہم کرنے والے افراد اور ایسے کاروبار جن کا بظاہر کوئی نمایاں دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں تھا، معمول کے مطابق بینک ٹرانسفر یا موبائل ادائیگیاں قبول کر رہے تھے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کی یہ سہولت صرف جدید شہری ریٹیلرز تک محدود نہیں رہی بلکہ ان معاشی سرگرمیوں تک بھی پہنچ چکی ہے جو جغرافیائی لحاظ سے دور دراز اور قانونی ضابطوں کے دائرے سے کافی حد تک باہر کام کر رہی ہیں۔

قومی اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی، جو تقریباً 5 لاکھ 16 ہزار سے بڑھ کر 10 لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی۔

یہ بلاشبہ ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اس سے اتنا کچھ ثابت نہیں ہوتا جتنا پالیسی ساز اکثر سمجھتے ہیں۔

ڈیجیٹل ادائیگی کسی کاروبار کو قانونی شناخت نہیں دیتی۔یہ نہ اس کے باقاعدہ کھاتے بناتی ہے، نہ قابلِ ٹیکس آمدنی کا تعین کرتی ہے، نہ ملازمین کی رجسٹریشن کرتی ہے، نہ رسیدیں تیار کرتی ہے، نہ لائسنس دلواتی ہے اور نہ ایسے معاہدے وجود میں لاتی ہے جن پر قانونی عمل درآمد ممکن ہو۔

اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ ڈیجیٹل ادائیگی کسی کاروباری لین دین اور دو افراد کے درمیان ہونے والی عام رقم کی منتقلی میں فرق واضح کر سکے۔

ادائیگی کا یہی نظام ایک رجسٹرڈ کمپنی، ایک غیر رجسٹرڈ سڑک کنارے کاروبار، یا مکمل طور پر سرکاری ضابطوں سے باہر چلنے والی سرگرمی، تینوں کے لیے یکساں طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

ڈیجیٹل انفراسٹرکچر لین دین کو آسان ضرور بناتا ہے، لیکن باضابطہ معیشت کے لیے مضبوط ادارے درکار ہوتے ہیں۔لہٰذا ممکن ہے کہ پاکستان نے غیر رسمی کاروبار کے بڑے حصے کو تو ڈیجیٹل بنا دیا ہو، مگر ان کاروباروں کو ملک کے وسیع تر پیداواری نظام میں ضم نہ کر سکا ہو۔

ایک لین دین مالیاتی نظام میں کہیں نہ کہیں دکھائی تو دے سکتا ہے، لیکن خود کاروبار اب بھی تجارتی اعتبار سے ناقابلِ شناخت رہ سکتا ہے۔اس کی ادائیگیوں کی تاریخ خود بخود اس کی کریڈٹ پروفائل نہیں بن جاتی۔اس کا کاروباری حجم لازماً اسے سپلائر فنانسنگ، انشورنس، سرکاری خریداری یا ورکنگ کیپیٹل تک رسائی فراہم نہیں کرتا۔

ٹیکنالوجی نے صرف وہ محدود کام انجام دیا ہے جو اسے سونپا گیا تھا، لیکن اس لین دین کے گرد موجود ادارے اسے ایک مکمل کاروباری صلاحیت میں تبدیل نہیں کر سکے۔

سیاحتی موسم کے عروج پر استنبول کا حالیہ سفر اس کے بالکل برعکس ایک دلچسپ تضاد پیش کرتا ہے۔سرکجی اور اس کے گردونواح کے تجارتی علاقوں میں واقع ریستورانوں، روایتی بازاروں، مٹھائی فروشوں اور آزاد ریٹیل دکانوں میں اکثر نقد ادائیگی کو ترجیح دی جا رہی تھی۔

ترک لیرا میں نقد ادائیگی کرنے پر تقریباً 10 فیصد رعایت کی پیشکش بار بار کی جا رہی تھی۔اس رجحان کی وجوہات میں کارڈ ادائیگی وصول کرنے کی لاگت، کاروباری روایات، الیکٹرانک لین دین کی زیادہ نگرانی یا ان تمام عوامل کا مجموعہ شامل ہو سکتا ہے۔

تاہم اس سے کسی ایک کاروبار کے ٹیکس معاملات کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔اصل مشاہدہ صرف اتنا ہے کہ نقد ادائیگی کو ترجیح دینے کے باوجود استنبول ایک نہایت گنجان، متحرک اور کامیاب سیاحتی و چھوٹے کاروباری معیشت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔

ترکیہ نے 2025 میں تقریباً 6 کروڑ 40 لاکھ سیاحوں کا خیر مقدم کیا اور سیاحت سے تقریباً 65 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی۔سیاح اب بھی وہاں آتے ہیں، حالانکہ نقد ادائیگی کی روایت، بلند قیمتیں، گرمیوں کے موسم کا ہجوم، غیر یکساں خدمات اور دیگر کئی خامیاں موجود ہیں، جنہیں پاکستان میں سیاحت کی اصلاح کے مباحثے میں شاید بنیادی مسئلہ قرار دیا جاتا۔

یہ حقیقت اس خیال پر مزید شکوک پیدا کرتی ہے کہ پاکستان صرف بہتر ہوٹل یا بہتر ادائیگی کے نظام کے ذریعے سیاحت میں انقلاب لا سکتا ہے۔

ہوٹل یقیناً اہم ہیں، مگر وہ ایک منزل کے نظام کا صرف ایک حصہ ہوتے ہیں۔اس نظام میں فضائی رابطے، ویزا سہولیات، پبلک ٹرانسپورٹ، سکیورٹی، پیدل چلنے کے قابل شہری ماحول ، تاریخی مقامات، عوامی مقامات، تفریح، خوراک، تجارتی سرگرمیوں کی کثافت، شہری نظم و نسق اور عالمی سطح پر مؤثر تشہیر سب شامل ہوتے ہیں۔

اس میں یہ اعتماد بھی شامل ہے کہ ایک سیاح ان تمام عناصر کے درمیان سفر کرتے ہوئے بار بار انتظامی یا لاجسٹک ناکامیوں کا شکار نہیں ہوگا۔استنبول کے انفرادی کاروباروں کو خود استنبول بنانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ شہر خود گاہک ان تک پہنچاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان اکثر ایک تنہا ہوٹل، ریستوران یا ٹور آپریٹر سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے گرد موجود پورے منزلی نظام کی عدم موجودگی کی تلافی کر دے۔

ایک اچھا ہوٹل بہترین کمرے، عمدہ کھانا اور معیاری سروس تو فراہم کر سکتا ہے، لیکن وہ اکیلے سڑکیں تعمیر نہیں کر سکتا، ہوائی اڈے نہیں چلا سکتا، عوامی مقامات کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا، تجارتی سرگرمیوں کا جال نہیں بچھا سکتا، کچرے کا انتظام نہیں کر سکتا، حفاظتی معیارات نافذ نہیں کر سکتا اور نہ ہی پورے سفری تجربے پر اعتماد قائم کر سکتا۔

چین اس کی ایک اور بھی زیادہ واضح مثال پیش کرتا ہے۔کسی غیر ملکی سیاح یا کاروباری شخص کے لیے چین کا ادائیگیوں کا نظام بعض اوقات سمجھنا اور استعمال کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ روزمرہ کی خرید و فروخت زیادہ تر مقامی ایپلی کیشنز، جیسے علی پے اور وی چیٹ پے کے گرد منظم ہے۔

بین الاقوامی بینک کارڈز، غیر ملکی ڈیجیٹل والٹس، مانوس موبائل ایپلی کیشنز اور ترجمے کے انٹرفیس ہمیشہ یکساں طور پر کام نہیں کرتے۔ حالیہ اصلاحات نے غیر ملکی صارفین کے لیے کچھ سہولت ضرور پیدا کی ہے، لیکن اب بھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے شخص کو چین کے مقامی تجارتی نظام سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔

اس کے باوجود چین دنیا کی ایک بڑی مینوفیکچرنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کی طاقت اس لیے نہیں بنا کہ اس نے اپنے ہر مقامی نظام کو کبھی کبھار آنے والے غیر ملکی مہمان کی سہولت کے مطابق ڈھال دیا۔بلکہ اس نے ایک ایسا ماحول تعمیر کیا جو اپنی پیداواری معیشت میں کام کرنے والے کاروباروں کے لیے انتہائی بڑے پیمانے پر مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔

ییوو کے تاجروں کو ہول سیل مارکیٹوں کی گنجائش، مضبوط لاجسٹکس، گوداموں، سپلائر نیٹ ورکس، ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، برآمدی ثالثوں اور مقامی انتظامی صلاحیت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ایک غیر ملکی کو ادائیگی یا ترجمے کے نظام میں دشواری پیش آ سکتی ہے، لیکن خود کاروبار کو ایک مکمل تجارتی ماحولیاتی نظام تلاش کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

چین میں باہر سے آنے والے شخص کو ایک مربوط نظام کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے، جبکہ پاکستان میں خود کاروباری شخص کو ایک غیر مربوط نظام کے مطابق مسلسل خود کو ڈھالتے رہنا پڑتا ہے۔

یہ موازنہ قومی مزاج، مہمان نوازی یا محنتی ہونے کے بارے میں نہیں ہے۔خدمات، زبان دانی اور فروخت کی مہارت کے بارے میں تاثرات فطری طور پر ذاتی ہوتے ہیں۔

حالیہ مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی دکاندار کئی مرتبہ بیرونِ ملک کے بڑے تجارتی مراکز کے تاجروں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے بھاؤ تاؤ کرنے، حالات کے مطابق فوری حل نکالنے، انگریزی میں بات چیت کرنے یا فروخت مکمل کرنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں لیکن خوش اخلاقی، محنت اور فروخت کی مہارت کسی ملک کی معاشی کارکردگی کی وضاحت نہیں کرتیں۔

پاکستانی کاروباری افراد اکثر ہر ایک لین دین پر زیادہ محنت کرتے ہیں کیونکہ ان کے اردگرد موجود نظام نے رابطہ کاری کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔

کاروبار کے مالک کو خود گاہک تلاش کرنے ہوتے ہیں، سامان کی ترسیل کا بندوبست کرنا ہوتا ہے، غیر مستحکم بجلی سے نمٹنا پڑتا ہے، غیر رسمی قرضوں کے تعلقات برقرار رکھنے ہوتے ہیں، ٹیکس کے معاملات سنبھالنے ہوتے ہیں، سرکاری اہلکاروں سے واسطہ رکھنا پڑتا ہے، سکیورٹی پر نظر رکھنی پڑتی ہے اور انفراسٹرکچر کی خرابیوں سے اپنے مال کی حفاظت بھی کرنی پڑتی ہے۔اس محنت کا بڑا حصہ دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے۔یہ کاروبار کو تباہ ہونے سے تو بچاتا ہے، لیکن اس کی مصنوعات، پیداواریت یا وسعت میں اضافہ نہیں کرتا۔

اس کے برعکس، بہتر انداز میں چلنے والے ماحول میں کوئی کاروبار بظاہر کم محنت کرتا ہوا دکھائی دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے لیے ضروری بہت سا کام پہلے ہی اجتماعی طور پر انجام دیا جا چکا ہوتا ہے۔

عوامی ٹرانسپورٹ مزدوروں اور گاہکوں کو کاروبار تک پہنچاتی ہے۔سڑکیں سامان کی ترسیل ممکن بناتی ہیں۔کچرا باقاعدگی سے اٹھایا جاتا ہے۔بجلی کافی حد تک قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔تجارتی علاقے قابلِ رسائی اور محفوظ رہتے ہیں۔خواتین کارکن، کاروباری شخصیت اور صارف کی حیثیت سے بھرپور حصہ لے سکتی ہیں۔عدالتیں اور انتظامی نظام کم از کم اتنا قابلِ اعتماد ضرور ہوتے ہیں کہ کاروباری افراد کو یقین رہے کہ تنازع پیدا ہونے کی صورت میں ان کے معاہدے اور جائیداد کے حقوق محفوظ رہیں گے۔

جہاں یہ بنیادی ڈھانچہ موجود ہو، وہاں ایک تاجر بھاؤ تاؤ کرنے سے انکار کر دے، معمولی درجے کی خدمت فراہم کرے یا عارضی طور پر دکان بند بھی کر دے، تب بھی اس کا کاروبار تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل رہ سکتا ہے۔

کیونکہ نظام خود اتنی طلب، رابطہ کاری اور پیش گوئی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے کہ عام درجے کی کمزوری کو بھی برداشت کر لیتا ہے۔لیکن جہاں یہ بنیادیں موجود نہ ہوں، وہاں غیر معمولی محنت بھی صرف گزر بسر تک ہی محدود رہ سکتی ہے۔

اسی لیے گورننس کو ایک مکمل نظامی تجربہ کے طور پر سمجھنا چاہیے۔گورننس صرف ڈیجیٹلائزیشن، قرض تک رسائی، ٹیکس رجسٹریشن یا ضابطہ جاتی اصلاحات کا نام نہیں۔اس میں عوامی ٹرانسپورٹ، نکاسیٔ آب، کچرا اٹھانے کا نظام، سڑکیں، پولیسنگ، بجلی، ٹیلی کمیونی کیشن، خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت، مقامی حکومتیں، عدالتیں، سیاسی استحکام اور قوانین کا مستقل اور یکساں اطلاق بھی شامل ہے۔

ان میں سے کسی بھی نظام کا مکمل طور پر بے عیب ہونا ضروری نہیں۔مثلاً استنبول کے اسپائس بازار میں حالیہ بجلی کی بندش نے اس کے گرد موجود پورے تجارتی نظام کو ختم نہیں کر دیا۔

گاہک موجود رہے،ٹرانسپورٹ چلتی رہی،سپلائرز ایک دوسرے سے جڑے رہے،اور وہ مقام اپنی معاشی اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

پاکستان میں اس کے برعکس، ایک خرابی دوسری خرابی کو جنم دیتی ہے۔بارش سے سڑک خراب ہو جاتی ہے،سامان کی ترسیل میں تاخیر ہوتی ہے،بجلی بند ہو جاتی ہے،جلد خراب ہونے والی اشیا ضائع ہونے لگتی ہیں،گاہک سفر نہیں کر پاتے،فروخت گر جاتی ہے،قرض کی قسط وقت پر ادا نہیں ہو پاتی۔پھر مالیاتی ادارہ ایک اور ایسے ایس ایم ای کا ریکارڈ بنا لیتا ہے جس کی کریڈٹ کوالٹی کمزور ہے، اور اس کے بعد اکثر پالیسی ساز ایک نئی فنانسنگ اسکیم متعارف کرا دیتے ہیں۔

اس پورے ماحول کی سب سے بڑی قیمت نہ تو بجلی کے بل میں مکمل طور پر نظر آتی ہے، نہ ٹیکس ریٹرن میں اور نہ ہی بینک اسٹیٹمنٹ میں۔اس کی اصل قیمت وہ مسلسل ذہنی بوجھ ہے جو ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال ایک کاروباری شخص پر ڈالتی ہے۔

ایک چھوٹے کاروبار کے مالک کو ہر وقت یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا آج کچرا اٹھایا جائے گا؟ کیا سڑک قابلِ آمدورفت رہے گی؟ کیا موبائل فون سروس بند تو نہیں ہو جائے گی؟ کیا کوئی جلوس بازار بند کرا دے گا؟ کیا کسی قانون کی تشریح اچانک بدل جائے گی؟یا کیا کسی بالکل غیر متعلقہ تنازع کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اچانک معطل ہو جائیں گی؟

پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروبار سے بالکل غیر متعلقہ کوئی واقعہ اچانک بازاروں کی بندش، ٹرانسپورٹ کی معطلی، ٹیلی کمیونی کیشن سروسز پر پابندی اور گاہکوں کی آمد میں شدید کمی کا باعث بن جاتا ہے۔کاروبار کا مالک اس بنیادی تنازع یا واقعے پر کوئی اختیار نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود اسے اس کے تمام تجارتی نتائج برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

جو توجہ ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال میں اپنے کاروبار کو زندہ رکھنے پر صرف ہوتی ہے، وہ کاروبار کی ترقی پر صرف نہیں ہو سکتی، رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے جو ورکنگ کیپیٹل الگ رکھنا پڑتا ہے، وہ نئے مال کی خریداری پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔سرکاری اہلکاروں کے ساتھ معاملات نمٹانے میں صرف ہونے والا وقت نئے گاہک بنانے میں استعمال نہیں ہو سکتا۔بجلی، سکیورٹی اور لاجسٹکس کے مسائل پر خرچ ہونے والی انتظامی صلاحیت نہ تو مصنوعات کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے اور نہ ہی کاروبار کو کسی نئی برآمدی منڈی میں داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔

خراب گورننس کاروبار پر صرف مالی بوجھ ہی نہیں ڈالتی بلکہ وقت اور ذہنی صلاحیت پر بھی ٹیکس عائد کر دیتی ہے، یہ بوجھ خاص طور پر چھوٹے کاروباروں کے لیے زیادہ سنگین ہوتا ہے کیونکہ بڑی کمپنیاں ان مسائل کا نجی متبادل خرید سکتی ہیں،وہ وکلاء رکھ سکتی ہیں، اپنے جنریٹر لگا سکتی ہیں، نجی سکیورٹی ٹیمیں تعینات کر سکتی ہیں، لاجسٹکس کے محکمے قائم کر سکتی ہیں، ٹیکس مشیر رکھ سکتی ہیں اور حکومت سے تعلقات سنبھالنے کے لیے الگ عملہ مقرر کر سکتی ہیں۔

اس کے برعکس، ایک چھوٹا کاروبار انہی ادارہ جاتی ناکامیوں کی قیمت اپنے مالک کے وقت، اپنے ورکنگ کیپیٹل اور اپنی کھوئی ہوئی ترقی کی صورت میں ادا کرتا ہے۔

اسی لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے لیے الگ الگ پالیسی اقدامات بار بار توقعات پر پورا نہیں اترتے۔قرض خراب لاجسٹکس کا متبادل نہیں بن سکتا۔

تربیت خود بخود طلب پیدا نہیں کر سکتی، ڈیجیٹلائزیشن کسی کاروبار کو قانونی شناخت نہیں دے سکتی۔

اور باضابطہ معیشت اس وقت تک کاروبار کے لیے پُرکشش نہیں بن سکتی، جب تک اس کا مطلب صرف یہ ہو کہ کاروبار زیادہ نمایاں ہو جائے اور اس کے نتیجے میں اسے مزید ضابطہ جاتی بوجھ اور استحصال کا سامنا کرنا پڑے۔اسی طرح کوئی ایک ہوٹل اپنے بل بوتے پر پورا سیاحتی مقام نہیں بنا سکتا۔

لہٰذا اصل پالیسی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی کاروباری افراد کو زیادہ محنت کیسے کروائی جائے، انہیں مزید قرض کیسے دیا جائے، انہیں جلد رجسٹر کیسے کیا جائے یا ان سے ایک اور موبائل ایپلی کیشن کیسے استعمال کروائی جائے۔

وہ پہلے ہی غیر معمولی حد تک محنت کر رہے ہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اس محنت کا کتنا بڑا حصہ ایسے مسائل پر ضائع ہو رہا ہے، جنہیں اجتماعی طور پر بہت پہلے حل کر دیا جانا چاہیے تھا۔

جہاں چھوٹے کاروبار کامیاب ہوتے ہیں، وہاں گورننس خود کاروباری افراد سے زیادہ محنت کرتی ہے تاکہ وہ ماحول محفوظ اور مستحکم رہے جس میں تجارت فروغ پاتی ہے اور جہاں گورننس ناکام ہو جاتی ہے، وہاں کاروبار کرنے والے لوگ دوگنی محنت کے باوجود بھی اس کا صرف ایک معمولی حصہ ہی حاصل کر پاتے ہیں جو انہیں بہتر نظام میں مل سکتا تھا۔

جب تک پاکستان اس بنیادی فرق کو نہیں سمجھے گا، تب تک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) سے متعلق پالیسیاں صرف انفرادی اقدامات اور اسکیموں کو فنڈ فراہم کرتی رہیں گی، جبکہ کاروباری نظام کی بنیادی خرابی جوں کی توں برقرار رہے گی۔

ییوو سے لے کر استنبول تک، اور پاکستان کی دور افتادہ دیہی بستیوں تک، سبق ایک ہی ہے۔ چھوٹے کاروبار اس وقت پھلتے پھولتے ہیں جب ان کے گرد موجود پورا نظام خود کاروباری شخص سے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔

Comments

200 حروف