"ہماری فوج ہماری ریڈ لائن ہے"، بلاول بھٹو
- پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی آزاد کشمیر بحران کے حل کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن بنانے کی تجویز
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ”ہماری فوج ہماری ریڈ لائن ہے“ اور خبردار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے آزاد جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے حل کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔
مظفرآباد میں پارٹی رہنماؤں اور انتخابی ٹکٹ ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ یہ کمیشن وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور احتجاج کرنے والوں کی باہمی رضامندی سے تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن حالیہ واقعات کی تحقیقات کرے، تمام فریقوں کے تحفظات کا جائزہ لے، قانونی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے ”منصفانہ اور دیرپا“ سیاسی حل کے لیے سفارشات مرتب کرے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپیل کی کہ کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے ہونے کے بعد مظاہرین دھرنے اور لانگ مارچ معطل کر دیں، جبکہ حکومت سے بھی کہا کہ اس دوران مزید طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اس تجویز پر ان کی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بات ہوئی ہے، جنہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد جواب دیں گے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے آزاد کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کو ”قومی سانحہ“ قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہر کشمیری کی جان قیمتی ہے اور اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والوں کو محض مطالبات کی بنیاد پر دہشت گرد یا غیر ملکی ایجنٹ قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مظاہرین یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے خلاف تشدد کے تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہییں۔
بلاول کا کہنا تھا کہ موجودہ تصادم طاقت یا اشتعال انگیز بیانات سے حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے بقول، سابقہ معاہدوں اور مختلف دعوؤں کا جائزہ سیاسی الزام تراشی کے بجائے ایک آزاد اور غیر جانبدار نظام کے تحت لیا جانا چاہیے۔
ملکی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بحران میں ”غیر سیاسی اندازِ حکمرانی“ اور بعض وفاقی وزرا کے غیر مناسب بیانات نے مزید شدت پیدا کی، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس کے پس منظر میں موجود بنیادی اور ساختی مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر پر اپنی جماعت کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف جائز ہے اور اسے اندرونی سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے ذمہ دارانہ سیاسی طرزِ عمل اختیار کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دشمن قوتیں اندرونی عدم استحکام سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہمیں الفاظ کا انتخاب ذمہ داری سے کرنا چاہیے اور ایسی سیاست کرنی چاہیے جس سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع نہ ملے۔“
بلاول نے مزید تجویز دی کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بلایا جائے، جو ایسے قانونی اصلاحات پر غور کرے جن سے پاکستان کے کشمیر سے متعلق مؤقف پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر خطے کے عوام کے حقوق میں توسیع کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مستقبل کشمیری عوام کو خود طے کرنا چاہیے، جبکہ پیپلز پارٹی کا منشور آزاد کشمیر کے عوام کو زیادہ سیاسی حقوق، مقامی وسائل پر اختیار اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی، اور کہا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران پارٹی کارکنوں کے ساتھ خطے میں موجود رہیں گے۔


Comments