BR100 Increased By (1.3%)
BR30 Increased By (1.23%)
KSE100 Increased By (1.05%)
KSE30 Increased By (1.17%)
BAFL 57.18 Increased By ▲ 0.79 (1.4%)
BIPL 26.85 Increased By ▲ 0.29 (1.09%)
BOP 33.65 Increased By ▲ 0.60 (1.82%)
CNERGY 9.59 Decreased By ▼ -0.09 (-0.93%)
DFML 18.35 Increased By ▲ 0.19 (1.05%)
DGKC 206.72 Increased By ▲ 2.71 (1.33%)
FABL 98.85 Increased By ▲ 1.88 (1.94%)
FCCL 51.65 Increased By ▲ 0.74 (1.45%)
FFL 16.71 Increased By ▲ 0.15 (0.91%)
GGL 23.52 Increased By ▲ 0.75 (3.29%)
HBL 303.87 Increased By ▲ 5.83 (1.96%)
HUBC 217.55 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.88 Increased By ▲ 0.18 (1.68%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.09 (-1.2%)
LOTCHEM 30.60 Increased By ▲ 0.26 (0.86%)
MLCF 95.10 Increased By ▲ 1.78 (1.91%)
OGDC 322.30 Increased By ▲ 2.80 (0.88%)
PAEL 41.40 Increased By ▲ 0.34 (0.83%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.40 (2.43%)
PIOC 262.90 Increased By ▲ 5.89 (2.29%)
PPL 225.39 Increased By ▲ 2.81 (1.26%)
PRL 41.68 Decreased By ▼ -0.37 (-0.88%)
SNGP 104.11 Decreased By ▼ -0.39 (-0.37%)
SSGC 28.54 Increased By ▲ 0.16 (0.56%)
TELE 8.72 Increased By ▲ 0.09 (1.04%)
TPLP 12.13 Increased By ▲ 1.10 (9.97%)
TRG 58.10 Decreased By ▼ -0.71 (-1.21%)
UNITY 9.70 Increased By ▲ 0.10 (1.04%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)
اداریہ

ادویات کا ایک قابلِ تدارک بحران

پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال پر ہونے والی بحث طویل عرصے سے ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: ادویات کو سستی کیسے...
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں صحت کے شعبے سے متعلق بحث طویل عرصے سے ایک ہی سوال کے گرد گھومتی رہی ہے: ادویات کو عوام کی پہنچ میں کیسے رکھا جائے؟ یہ تشویش بالکل بجا ہے کیونکہ ملک میں علاج پر ذاتی اخراجات خطے کے بلند ترین اخراجات میں شمار ہوتے ہیں اور لاکھوں افراد معمول کے علاج کا خرچ بھی برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم جب ادویات دستیاب ہی نہ ہوں تو سستی کی بحث بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے تجویز کردہ قیمتوں میں نظرثانی کی منظوری دو سال سے زائد عرصے تک مؤخر رہنے کے بعد درجنوں ہارڈشپ کیٹیگری ادویات کی مبینہ قلت محض ایک انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ اس حقیقت کی یاددہانی ہے کہ قیمتوں کا تعین، خواہ نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، معاشی حقائق سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ متاثرہ ادویات کی فہرست بھی معمولی نوعیت کی نہیں۔ ان میں کینسر کے علاج کی ادویات، دل کے امراض کی دوائیں، تکلیف کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اورل مورفین، بچوں کے لیے مخصوص ادویات، ویکسینز اور آنکھوں کی دوائیں شامل ہیں جن کی شدید قلت کی اطلاعات ہیں۔ یہ ایسی ادویات نہیں ہیں جنہیں مریض قیمتوں میں استحکام آنے تک ملتوی کرسکیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے علاج میں تعطل کے ناقابل تلافی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

پے در پے آنے والی حکومتیں ایک ہی پرانے مخمصے کا شکار رہی ہیں۔ ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دینا سیاسی طور پر مہنگا فیصلہ ثابت ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی پہلے ہی گھریلو آمدنی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کر چکی ہو۔ تاہم ان فیصلوں میں تاخیر دراصل مسئلے کا بوجھ صرف دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔ درآمدی خام مال، توانائی، نقل و حمل اور ریگولیٹری تقاضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث ادویات ساز کمپنیاں غیر معاشی قیمتوں پر غیر معینہ مدت تک ادویات تیار نہیں کر سکتیں۔ بالآخر وہ یا تو پیداوار کم کردیتی ہیں یا مکمل طور پر بند کردیتی ہیں۔ نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے، یعنی فارمیسیوں کے شیلف بڑی حد تک خالی ہیں, تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ادویات کی قیمتوں کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے۔ ادویات عام صارف اشیا کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ عوامی صحت کے تناظر میں ان کی ایک منفرد حیثیت ہے جس کے باعث ان پر مؤثر ریگولیٹری نگرانی ناگزیر ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت اور ادویات ساز کمپنیوں کی تجارتی پائیداری کے درمیان درست توازن قائم کیا جائے، اگر اس توازن کا پلڑا کسی ایک جانب زیادہ جھک جائے تو پورا نظام ناکامی سے دوچار ہونے لگتا ہے۔

پاکستان کا حالیہ تجربہ خود اس حوالے سے ایک سبق آموز مثال پیش کرتا ہے۔ غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ضابطوں سے آزاد کرنے کا فیصلہ اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ اس سے برسوں سے جاری وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی قلت کا خاتمہ ہوا اور مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی بحال ہوئی، اگرچہ اس کے نتیجے میں خوردہ قیمتوں میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا۔ دوسری جانب ضروری ادویات کو عوامی صحت میں ان کی اہمیت کے پیشِ نظر بدستور قیمتوں کے سرکاری کنٹرول میں رکھا گیا, تاہم اگر انہی کنٹرول شدہ ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی، ریگولیٹر کی سفارشات کے باوجود، برسوں تک مؤخر رکھی جائے تو عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا یہی نظام الٹا اپنے مقصد کو ناکام بنا دیتا ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ مسئلہ صرف ادویات کی دستیابی تک محدود نہیں۔ جب اصل اور قانونی ذرائع سے ادویات غائب ہونے لگتی ہیں تو مریض مجبوری میں متبادل ذرائع کا رخ کرتے ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ ادویات کی قلت جعلی، اسمگل شدہ اور غیر معیاری ادویات کے بازار میں آنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کردیتی ہے۔ یہ خطرہ قیمتوں میں اضافے سے کہیں زیادہ سنگین ہے کیونکہ جعلی کینسر یا دل کے امراض کی دوا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ مریضوں کی جان کیلئے براہِ راست خطرہ اور صحت کے نظام پر عوامی اعتماد کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ یہ صورتحال معاشی نظم و نسق کی ایک گہری کمزوری کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ ریگولیٹری غیر یقینی نہ مریضوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ادویات ساز کمپنیوں کے۔ اگر موجودہ نظام کے تحت ہارڈشپ کیٹیگری کی ادویات کو وقتاً فوقتاً قیمتوں پر نظرثانی کا حق حاصل ہے تو ان جائزوں کا بروقت فیصلوں پر منتج ہونا ضروری ہے، نہ کہ وہ برسوں تک بیوروکریسی کی نذر ہو کر تعطل کا شکار رہیں۔ اس عمل میں پیش گوئی اور تسلسل خود فیصلے جتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ ادویات ساز کمپنیاں ایک شفاف اور قابلِ اعتماد ریگولیٹری نظام کے مطابق اپنی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں، لیکن غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والی تاخیر کے ساتھ نہیں۔

سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ مریضوں کے تحفظ کیلئے بنائی گئی یہی پالیسی بالآخر انہی کیلئے زیادہ مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسی دوا جس کی قیمت تو مقرر ہو مگر وہ بازار میں دستیاب ہی نہ ہو، کینسر سے لڑنے والے، دل کے دورے سے بچنے والے یا کسی دائمی مرض میں مبتلا مریض کے لیے کسی فائدے کی نہیں۔ درحقیقت ادویات کی دستیابی بھی ان کی استطاعت کا ایک لازمی جزو ہے لہٰذا حکومت کو مریضوں کے تحفظ اور ادویات کی پیداوار برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ دونوں مقاصد ایک قابلِ پیش گوئی قیمتوں کے نظام، بروقت ریگولیٹری فیصلوں اور ضرورت پڑنے پر کمزور اور نادار مریضوں کے لیے ہدفی معاونت کے ذریعے بیک وقت حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ البتہ جس چیز کی گنجائش نہیں وہ پالیسی سازی میں جمود ہے۔ صحت کے شعبے میں تاخیر سے ہونے والے فیصلے محض انتظامی معاملہ نہیں رہتے، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ علاج اور مریضوں کی جان سے جڑا مسئلہ بن جاتے ہیں جن کے نتائج کا بوجھ بالآخر مریضوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ بروقت فیصلہ سازی اور ریگولیٹری ادارے کی سفارشات پر فوری عملدرآمد ہی مریضوں کے لیے بہترین ممکنہ طبی نتائج یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف