ایف بی آر نے ان لینڈ ریونیو افسران کے چھوٹی دکانوں میں داخلے پر پابندی لگا دی
- ایف بی آر کی جاری کردہ دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کرنی ہوگی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ایسے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کی دکانوں میں ان لینڈ ریونیو افسران ٹیکس معاملات کے سلسلے میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جو ایف بی آر کی جاری کردہ دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) اپنی دکان کے باہر نمایاں طور پر آویزاں کریں گے۔
ایف بی آر نے ایس آر او 1109(I)/2026 کے ذریعے چھوٹے دکانداروں کے لیے مجوزہ خصوصی طریقہ کار (اسپیشل پروسیجر) کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق دکاندار آئیرس ویب پورٹل یا دکانداروں کی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ایک سادہ ریٹرن جمع کرائیں گے، جس میں مجموعی فروخت، مجموعی خریداری، دیگر اخراجات اور خالص منافع کی تفصیلات درج ہوں گی۔
اسی سادہ فارم میں دکانداروں کو اپنے جائز اثاثے ظاہر کرنے کا بھی آسان طریقہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ فارم اردو اور علاقائی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔
اس خصوصی طریقہ کار کے تحت مجموعی کاروباری حجم (گراس ٹرن اوور) پر ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
دکاندار قابلِ ادائیگی ٹیکس میں سے ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی رقم منہا کر سکیں گے۔
ایف بی آر نے کہا کہ اس خصوصی طریقہ کار کے لیے اہل اور رجسٹرڈ ہر حقیقی (بونا فائیڈ) دکاندار کو ایک تعمیلی دکاندار پلیٹ (گرین پلیٹ) جاری کی جائے گی، جس پر ایف بی آر کا مخصوص کیو آر کوڈ، دکاندار کا نام، این ٹی این اور دکان کا پتہ درج ہوگا، اور اسے دکان کے باہر نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔
اس کیو آر کوڈ میں دکان کے مقام اور ملکیت سے متعلق معلومات بھی موجود ہوں گی۔
ایف بی آر کے مطابق جس دکان پر گرین پلیٹ آویزاں ہوگی، وہاں کسی بھی حقیقی دکاندار کے ٹیکس معاملات کے حوالے سے ایف بی آر کا کوئی افسر یا اہلکار دکان میں داخل نہیں ہوگا۔
یہ خصوصی طریقہ کار ان افراد پر لاگو ہوگا جن کی آمدنی بنیادی طور پر ریٹیل دکانوں سے حاصل ہوتی ہو اور جن کا سالانہ کاروباری حجم 20 کروڑ روپے تک ہو۔
یہ طریقہ کار ٹیکس سال 2026 کے لیے نافذ ہوگا۔
تاہم، یہ طریقہ کار ان افراد پر لاگو نہیں ہوگا جن کا گزشتہ تین برسوں میں کسی ایک سال کے دوران کاروباری حجم 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہو، یا جو ایک سے زیادہ دکانوں کے مالک ہوں، یا ٹیئر ون ریٹیلرز، زیورات فروخت کرنے والے، یا پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے (جیسے ڈاکٹر، انجینئر اور وکلا) ہوں۔
وہ ریٹیلرز جنہوں نے ٹیکس سال 2025 کا ریٹرن جمع کرایا تھا، وہ بھی اس خصوصی طریقہ کار کے تحت ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قابلِ ادائیگی ٹیکس 2025 کے مقابلے میں کم نہ ہو اور انہوں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنے کاروبار کو تقسیم یا اس کا نام تبدیل نہ کیا ہو۔
دکاندار آئیرس ویب پورٹل، دکانداروں کی موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر سے رجوع کرکے ایف بی آر میں رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
یہ طریقہ کار اختیاری ہوگا، یعنی دکاندار چاہیں تو اس اسکیم کے تحت ٹیکس ادا کریں یا معمول کے مطابق انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔
اس خصوصی طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کے لیے دکانداروں کو انکم ٹیکس ریٹرن کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے نقد ٹیکس جمع کرانا ہوگا، خواہ ان کے ٹیکس کی کٹوتی یا وصولی پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت کی جا چکی ہو۔
ایف بی آر نے مزید واضح کیا کہ قابلِ ادائیگی ٹیکس (ودہولڈنگ ٹیکس منہا کرنے کے بعد) یا 25 ہزار روپے، دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی، وہی دکاندار کا قابلِ ادائیگی ٹیکس تصور کی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments