BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.63 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 28.20 Increased By ▲ 0.19 (0.68%)
BOP 36.10 Increased By ▲ 0.14 (0.39%)
CNERGY 9.69 Increased By ▲ 0.29 (3.09%)
DFML 19.81 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
DGKC 224.49 Increased By ▲ 1.19 (0.53%)
FABL 101.63 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
FCCL 55.88 Increased By ▲ 0.41 (0.74%)
FFL 17.58 Increased By ▲ 0.10 (0.57%)
GGL 25.01 Increased By ▲ 0.20 (0.81%)
HBL 313.78 Increased By ▲ 4.89 (1.58%)
HUBC 227.05 Increased By ▲ 0.12 (0.05%)
HUMNL 11.16 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.16 (2.02%)
LOTCHEM 31.46 Increased By ▲ 1.03 (3.38%)
MLCF 104.24 Increased By ▲ 1.47 (1.43%)
OGDC 334.13 Increased By ▲ 0.58 (0.17%)
PAEL 45.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.09%)
PIBTL 17.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.28%)
PIOC 272.59 Increased By ▲ 0.75 (0.28%)
PPL 236.55 Increased By ▲ 0.93 (0.39%)
PRL 42.07 Increased By ▲ 0.22 (0.53%)
SNGP 112.40 Decreased By ▼ -1.83 (-1.6%)
SSGC 30.83 Decreased By ▼ -0.24 (-0.77%)
TELE 9.17 Increased By ▲ 0.17 (1.89%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
TRG 65.58 Increased By ▲ 0.41 (0.63%)
UNITY 10.26 Increased By ▲ 0.06 (0.59%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

ڈیجیٹل اثاثوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے، بِلال بن ثاقب

  • بلال بن ثاقب کی مفتی محمد تقی عثمانی سے ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

ڈیجیٹل اثاثوں کے وزیرِ مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ہفتے کے روز معروف اسلامی اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو صرف ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی اور اس سے وابستہ اثاثوں کا جائزہ سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے اشیا کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے ماہرین کی اب تک کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹو کرنسی شرعی اعتبار سے مال کے زمرے میں نہیں آتی۔

یہ فتویٰ دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کی جانب سے 24 ذی الحجہ 1447 ہجری (10 جون 2026) کو جاری کیا گیا تھا۔ سابق جج وفاقی شرعی عدالت مفتی محمد تقی عثمانی کے علاوہ پانچ دیگر ممتاز علما نے بھی اس پر دستخط کیے تھے۔

بلال بن ثاقب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ”آج میری مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحث پر تعمیری گفتگو ہوئی۔ ہم ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں: پاکستانیوں کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھنا۔“

بلال بن ثاقب نے کہا، ”میں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ایک وسیع شعبہ ہیں۔ اس لیے ان کا جائزہ صرف ایک ہی زاویے سے لینے کے بجائے سخت شرعی جانچ کے ساتھ ساتھ محتاط تکنیکی تجزیے کی بھی ضرورت ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”چونکہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، اس لیے میری خواہش ہے کہ معزز علما، ریگولیٹرز اور شعبے کے ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہے، تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی جامع سمجھ پر بھی استوار ہو۔“

Comments

200 حروف