احتساب کے قوانین کا مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے، نہ کہ قانون شکنی کے ملزمان کو قانون کی تکنیکی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر احتساب سے بچنے کا موقع فراہم کرنا۔ اسی لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اپنی دائرۂ اختیار برقرار رکھنے کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کو بنیاد بنا کر قانونی تشریح پر غور کیے جانے کی اطلاعات قابلِ توجہ اور قابلِ حمایت ہیں۔ اگر افراطِ زر کے باعث نیب کے دائرۂ اختیار کا تعین کرنے والی مالی حد میں اضافہ ہوگیا ہے تو اس بات کا بھی مضبوط جواز موجود ہے کہ خزانے کو مبینہ نقصان کی مالیت کا جائزہ بھی اسی پیمانے، یعنی افراطِ زر کے تناظر میں لیا جائے۔
یہ معاملہ اس لیے پیدا ہوا کہ اطلاعات کے مطابق نیب کے دائرۂ اختیار کی مالی حد کو افراطِ زر (مہنگائی) سے منسلک کرنے والی ترامیم کے نتیجے میں یہ مؤثر کم از کم حد 500 ملین روپے سے بڑھ کر 800 ملین روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔
اس کے نتیجے میں جاری بڑی تعداد میں انکوائریاں اور تحقیقات اب ممکنہ طور پر نیب کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوسکتی ہیں حالانکہ ان میں ایسے الزامات شامل ہیں جو پہلے نیب کے تحت قابلِ کارروائی اور قابلِ احتساب سمجھے جاتے تھے۔
زیرِ غور تجویز کا مقصد اس غیر معمولی صورتِ حال کو دور کرنا ہے۔ اس کے تحت مبینہ نقصان کی مالیت پر بھی وہی افراطِ زر (مہنگائی) کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ لاگو کرنے کی تجویز ہے، خواہ نقصان اٹھانے والا کوئی فرد ہو، سرکاری ادارہ ہو یا قومی خزانہ۔
اس تجویز کے بنیادی اصول سے اختلاف کرنا آسان نہیں۔ افراطِ زر (مہنگائی) اس معاملے کے دونوں پہلوؤں پر یکساں اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر کسی ملزم کو یہ مؤقف اختیار کرنے کی اجازت دی جائے کہ مہنگائی کے باعث قانونی مالی حد مبینہ رقم سے بڑھ گئی ہے، تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مبینہ طور پر ہونے والے مالی نقصان کی قدر میں مہنگائی کے باعث آنے والی کمی کو بھی تسلیم کیا جائے۔
افراطِ زر کا اطلاق منتخب طور پر کرنے سے ایسے نتائج نکلنے کا خطرہ ہے جو قانون کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے بجائے وقت گزرنے کو فائدہ پہنچائیں۔
اسے نیب کے اختیارات کو پارلیمنٹ کے مقرر کردہ دائرہ کار سے بڑھانے کی کوشش نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ایک ہی معاشی حقیقت، یعنی افراطِ زر کے اثرات، کا اطلاق یکساں اور مستقل انداز میں کیا جائے۔
افراطِ زر کے اثرات کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی قانونی شق کا اطلاق صرف ایک فریق کے فائدے تک محدود نہیں ہونا چاہیے جبکہ اس کے اس واضح اثر کو نظر انداز کر دیا جائے جو عوامی نقصان پر پڑتا ہے، جس کا ازالہ احتسابی عمل کا بنیادی مقصد ہے۔
پاکستان کا احتسابی نظام طویل عرصے سے قانونی پیچیدگیوں، قانون سازی میں بار بار کی جانے والی ترامیم اور طویل عدالتی کارروائیوں جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عوامی توجہ بدعنوانی کے الزامات کی اصل نوعیت سے ہٹ کر دائرۂ اختیار، قانونی طریقۂ کار یا قانون کی تشریح سے متعلق تکنیکی تنازعات پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ہر نظامِ انصاف میں قانونی تحفظات اور ضمانتیں ناگزیر ہیں لیکن انہیں اس حد تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ وہ ایسے ذرائع بن جائیں جن کے باعث احتساب کے عمل پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد ہی دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا چلا جائے۔
یہ خاص طور پر عوامی فنڈز سے متعلق کرپشن کے مقدمات میں بہت اہم ہے۔ افراطِ زر (مہنگائی) وقت کے ساتھ ساتھ پیسے کی قوتِ خرید کو مسلسل کم کرتی ہے۔
کئی سال قبل مبینہ طور پر خرد برد کی گئی رقم آج کی معاشی قدر کے لحاظ سے کہیں زیادہ بڑے مالی نقصان کی نمائندگی کرسکتی ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر دوسری جانب مہنگائی کو احتساب کے دائرۂ اختیار کو محدود کرنے کی بنیاد بنالیا جائے تو اس سے ایسا عدم توازن پیدا ہوتا ہے جسے شاید ہی عوام کی اکثریت منصفانہ قرار دے۔
یقیناً اگر نیب کی یہ تجویز منظور کر لی جاتی ہے تو تقریباً یقینی طور پر اس کا عدالتی جائزہ لیا جائے گا، اور ایسا ہونا بھی مناسب ہے۔ قانون کی تشریح سے متعلق معاملات کا حتمی فیصلہ عدالتوں ہی کا اختیار ہے، جو یہ طے کرتی ہیں کہ آیا ایسا طریقۂ کار پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔عدالتی نظرِثانی احتسابی عمل کی قانونی حیثیت اور ساکھ کو مضبوط بناتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ قانون میں کی جانے والی نئی تشریحات یا اقدامات آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہیں۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جائے۔
احتساب پر عوامی اعتماد کا انحصار نہ صرف غیر جانبدارانہ تحقیقات پر ہے بلکہ اس تاثر پر بھی ہے کہ قانونی اصلاحات کو ان کے اصل مقصد کو ناکام بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قوانین کو انصاف، شفافیت اور منصفانہ طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لیے ارتقاء پذیر ہونا چاہیے۔ انہیں نادانستہ طور پر ایسے مواقع پیدا نہیں کرنے چاہئیں جن سے کرپشن کے مبینہ مقدمات اس لیے ختم ہو جائیں کہ معاشی حالات تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ مبینہ عوامی نقصان کو ایسا سمجھا جائے جیسے وہ وقت میں منجمد ہو کر رہ گیا ہو۔
پاکستان نے بارہا احتساب کو مضبوط بنانے اور گورننس کو بہتر کرنے کے وعدے کیے ہیں۔ ان وعدوں کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی اگر قانونی سقم (خامیاں) آہستہ آہستہ وہ کام کر دکھائیں جو میرٹ پر ہونے والی بریت سے ممکن نہ تھا۔ احتساب کی قانون سازی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کرپشن کے الزامات کی جانچ پڑتال قانون کے مطابق ہو۔ یہ مقصد تب تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک دائرہ اختیار ایسی تکنیکی بے قاعدگیوں کی وجہ سے خاموشی سے ختم ہوتا رہے جن کا مبینہ جرم کی سنگینی سے کوئی تعلق نہ ہو۔
افراطِ زر (مہنگائی) پیسے کی قدر تو گھٹا سکتی ہے لیکن اسے احتساب کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments