ایس ای سی پی کا اہم قدم: سرمایہ کاروں کے لیے آئی بی اے این پر مبنی ڈیجیٹل تصدیق متعارف
- اقدام کا مقصد صارفین کی رجسٹریشن کو تیز اور آسان بنانا ہے
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ہفتے کو آئی بی اے این پر مبنی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام متعارف کرایا ہے جس کا مقصد صارفین کی رجسٹریشن (آن بورڈنگ) کو تیز اور آسان بنانا ہے۔
ایک بیان کے مطابق یہ نیا تصدیقی نظام سرمایہ کاروں کو غیر ضروری کاغذی کارروائی اور بار بار تصدیق کروانے کی ضرورت کے بغیر مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیجیٹل تبدیلی کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایس ای سی پی نے اے ایم ایل/سی ایف ٹی/سی پی ایف ریگولیشنز 2020 میں ترمیم کی ہے جس کے تحت ریگولیٹڈ افراد بشمول سیکیورٹیز بروکرز، فیوچرز بروکرز، انشورنس کمپنیاں، تکافل آپریٹرز، این بی ایف سی اور مضاربہ کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کے وائی سی کی ضروریات کو مکمل کرنے کیلئے صارفین کی تصدیق ان کی آئی بی اے این تفصیلات کے ذریعے کر سکیں۔
یہ اقدام پاکستان کے مالیاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ایس ای سی پی کی کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل رسائی کو فروغ دینا، کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنا اور صارفین کی محفوظ اور قابلِ اعتماد تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے مطابق نظرثانی شدہ فریم ورک ڈیجیٹل تصدیقی طریقوں کو روایتی عمل کے متبادل کے طور پر تسلیم کرتا ہے جس سے ریگولیٹڈ مالیاتی خدمات تک رسائی تیز تر ہو گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سخت ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
سرمایہ کاروں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور غیر مجاز مالیاتی سرگرمیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مستقبل کے تمام لین دین کو صرف صارف کے اپنے نام پر موجود تصدیق شدہ بینک کھاتوں تک محدود کردیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت اور ٹریسیبلٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔
نادرا کے اقدامات کے مطابق ترمیم شدہ ضوابط میں جدید بائیو میٹرک تصدیق کے اختیارات بھی متعارف کرائے گئے جن میں چہرے کی شناخت شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت نادرا کی جانب سے بلاک یا ضبط کیے گئے شناختی کارڈز سے منسلک کسٹمر اکاؤنٹس فوری طور پر بلاک کردیے جائیں گے۔
مزید برآں یہ ترامیم ڈیجیٹل لاگز کو اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی تعمیل اور ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے مستند ریکارڈ کے طور پر تسلیم کرتی ہیں جب کہ مقررہ فارمز کو بھی کمپنیز ریگولیشنز 2024 کے مطابق اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔


Comments