بھارت میں11 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے خلاف پرتشدد مظاہرے، درجنوں افراد گرفتار
- اتوار کو بچی کی لاش تالاب سے ملنے کے بعد مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا
بھارتی پولیس نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ مشرقی ریاست میں 11 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے خلاف اس ہفتے ہونے والے احتجاج کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ میں ملوث درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے ایک بے گناہ شخص کو تشدد کر کے ہلاک بھی کر دیا ہے۔
اتوار کو، بچی کے لاپتا ہونے کے ایک روز بعد، اس کی لاش مغربی بنگال کے شہر باروئی پور میں کولکتہ سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ایک تالاب سے ملنے کے بعد مظاہرین نے سڑکیں بند کر دیں اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔
ریاستی پولیس کے سینئر افسر اروند کمار آنند نے رائٹرز کو بتایا، ”اب تک تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزام میں 35 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز کی مدد سے دیگر ملوث افراد کی بھی شناخت کی جا رہی ہے۔“
دوسری جانب پولیس نے بتایا کہ 11 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے چار ملزمان میں سے ایک کو ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق پربھاس منڈل نامی ملزم کو بدھ کی علی الصبح اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ تفتیش کے سلسلے میں جائے وقوعہ پر لے جائے جانے کے دوران فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
پربھاس منڈل کی والدہ نے اپنے بیٹے کی لاش وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے گھر نہیں لے جانا چاہتیں کیونکہ ”اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا تھا۔“
انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا، ”میرے بیٹے نے جو گناہ کیا، اسے اس کی سزا مل گئی۔“
بھارتی میڈیا کے مطابق دیگر ملزمان میں سے ایک کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بے گناہ ہے اور اسے غلط شناخت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ باقی دو ملزمان کے اہلِ خانہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری، جو مئی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی کامیابی کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے، نے کہا کہ زیادتی، تشدد اور بے گناہ افراد کو تشدد کر کے قتل کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے جمعرات کو ایکس پر ایک بیان میں کہا، ”یہ نئی حکومت ایسے مجرموں کو قانون کے مطابق آخری حد تک لے کر جائے گی اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی۔“
اس واقعے نے ایک بار پھر بھارت میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات کو اجاگر کر دیا ہے، حالانکہ 2012 میں دہلی میں 22 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی اور قتل کے بعد ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں قوانین مزید سخت کیے گئے تھے۔ اس مقدمے میں سزا پانے والے چاروں مجرموں کو بعد ازاں پھانسی دے دی گئی تھی۔
2024 میں بھی مغربی بنگال عالمی توجہ کا مرکز بنا تھا، جب کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں ایک زیرِ تربیت خاتون ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے واقعے نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ملک گیر احتجاج کو جنم دیا تھا۔


Comments