BR100 Increased By (1.82%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (2.08%)
KSE30 Increased By (2.29%)
BAFL 61.40 Increased By ▲ 4.73 (8.35%)
BIPL 27.44 Increased By ▲ 0.43 (1.59%)
BOP 36.31 Increased By ▲ 1.22 (3.48%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 19.96 Increased By ▲ 0.29 (1.47%)
DGKC 227.14 Increased By ▲ 3.87 (1.73%)
FABL 101.46 Increased By ▲ 2.22 (2.24%)
FCCL 59.28 Increased By ▲ 1.73 (3.01%)
FFL 17.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 24.11 Increased By ▲ 0.74 (3.17%)
HBL 307.45 Increased By ▲ 15.24 (5.22%)
HUBC 233.14 Decreased By ▼ -0.31 (-0.13%)
HUMNL 11.50 Increased By ▲ 0.33 (2.95%)
KEL 8.33 Decreased By ▼ -0.21 (-2.46%)
LOTCHEM 28.19 Increased By ▲ 0.12 (0.43%)
MLCF 107.43 Increased By ▲ 0.52 (0.49%)
OGDC 334.91 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 45.42 Decreased By ▼ -0.03 (-0.07%)
PIBTL 18.85 Decreased By ▼ -0.23 (-1.21%)
PIOC 280.46 Decreased By ▼ -2.91 (-1.03%)
PPL 243.74 Increased By ▲ 1.12 (0.46%)
PRL 36.24 Increased By ▲ 0.57 (1.6%)
SNGP 119.63 Decreased By ▼ -1.30 (-1.08%)
SSGC 31.85 Decreased By ▼ -0.23 (-0.72%)
TELE 9.02 Increased By ▲ 0.15 (1.69%)
TPLP 10.72 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
TRG 64.31 Increased By ▲ 0.64 (1.01%)
UNITY 10.91 Increased By ▲ 0.09 (0.83%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.04 (3.2%)
کاروبار اور معیشت

ایس ای سی پی نے اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں کو ای ایس جی پر مبنی میوچل فنڈز متعارف کرانے کی اجازت دے دی

  • کمیشن نے ملک کے پہلے ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک کا اجرا کر دیا
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 09:07pm

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں (ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز) کو ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) اصولوں پر مبنی میوچل فنڈز متعارف کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا ہے۔

ایس ای سی پی نے بدھ کو جاری بیان میں اس پیش رفت کو پائیدار مالیات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

بیان کے مطابق دنیا بھر میں پائیدار سرمایہ کاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اس وقت 16 کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے پائیدار سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے تحت زیر انتظام ہیں۔ سرمایہ کار مالی منافع کے ساتھ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو بھی اہمیت دے رہے ہیں، جس کے پیش نظر دنیا بھر کے ریگولیٹری ادارے ای ایس جی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرا رہے ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ نیا فریم ورک ای ایس جی سے ہم آہنگ اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں کے لیے شفاف ضابطہ جاتی نظام فراہم کرے گا اور پاکستان کی مالیاتی منڈی کو پائیدار سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے عالمی نظام سے جوڑے گا۔

فریم ورک کے تحت ایکویٹی پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز بنیادی طور پر ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سسٹین ایبلٹی انڈیکس میں شامل ہیں یا ایس ای سی پی کی ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے مطابق ہیں۔

اسی طرح قرض پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز پاکستان کی گرین ٹیکسانومی اور سسٹین ایبل فنانس فریم ورک کے مطابق گرین، سماجی اور پائیداری سے منسلک قرض جاتی مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کریں گے۔

ایس ای سی پی کے مطابق اس فریم ورک سے پاکستانی کمپنیوں کو اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے معیار بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی، جس سے انہیں پائیدار سرمایہ کاری کے سرمائے تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور ذمہ دارانہ کارپوریٹ طرزِ عمل کو بھی فروغ ملے گا۔

سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مارکیٹ کے شفاف نظام کو یقینی بنانے کے لیے فریم ورک کے تحت ای ایس جی میوچل فنڈز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنے خالص اثاثوں کا کم از کم 50 فیصد ای ایس جی سے ہم آہنگ سرمایہ کاری میں لگائیں۔ اس کے علاوہ گورننس، معلومات کے افشا اور آزادانہ جانچ سے متعلق تقاضے بھی متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ گرین واشنگ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور شفافیت و جوابدہی کو فروغ دیا جا سکے۔

ایس ای سی پی نے کہا کہ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک اس کے وسیع تر پائیداری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ کمیشن گزشتہ چند برسوں کے دوران فہرست شدہ کمپنیوں کے لیے ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز جاری کر چکا ہے، آئی ایف آر ایس سسٹین ایبلٹی ڈسکلوزر اسٹینڈرڈز (آئی ایف آر ایس S1 اور آئی ایف آر ایس S2) اختیار کر چکا ہے، ای ایس جی سسٹین پلیٹ فارم متعارف کرا چکا ہے اور پاکستان کی گرین ٹیکسانومی بھی تیار کر چکا ہے۔

کمیشن کے مطابق ان اصلاحات سے پاکستان میں پائیدار مالیاتی نظام مضبوط ہوگا اور ملک کی سرمایہ مارکیٹ ذمہ دارانہ اور طویل المدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مزید پرکشش بنے گی۔

Comments

200 حروف