ایس ای سی پی نے اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں کو ای ایس جی پر مبنی میوچل فنڈز متعارف کرانے کی اجازت دے دی
- کمیشن نے ملک کے پہلے ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک کا اجرا کر دیا
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اثاثہ جاتی انتظامی کمپنیوں (ایسٹ مینجمنٹ کمپنیز) کو ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) اصولوں پر مبنی میوچل فنڈز متعارف کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن نے ملک کا پہلا ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک جاری کر دیا ہے۔
ایس ای سی پی نے بدھ کو جاری بیان میں اس پیش رفت کو پائیدار مالیات کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
بیان کے مطابق دنیا بھر میں پائیدار سرمایہ کاری تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اس وقت 16 کھرب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثے پائیدار سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کے تحت زیر انتظام ہیں۔ سرمایہ کار مالی منافع کے ساتھ ذمہ دارانہ کاروباری طرزِ عمل کو بھی اہمیت دے رہے ہیں، جس کے پیش نظر دنیا بھر کے ریگولیٹری ادارے ای ایس جی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے ضابطہ جاتی فریم ورک متعارف کرا رہے ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق پاکستان کے لیے یہ اقدام اس لیے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ نیا فریم ورک ای ایس جی سے ہم آہنگ اجتماعی سرمایہ کاری اسکیموں کے لیے شفاف ضابطہ جاتی نظام فراہم کرے گا اور پاکستان کی مالیاتی منڈی کو پائیدار سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے عالمی نظام سے جوڑے گا۔
فریم ورک کے تحت ایکویٹی پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز بنیادی طور پر ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کریں گے جو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سسٹین ایبلٹی انڈیکس میں شامل ہیں یا ایس ای سی پی کی ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز کے مطابق ہیں۔
اسی طرح قرض پر مبنی ای ایس جی میوچل فنڈز پاکستان کی گرین ٹیکسانومی اور سسٹین ایبل فنانس فریم ورک کے مطابق گرین، سماجی اور پائیداری سے منسلک قرض جاتی مالیاتی آلات میں سرمایہ کاری کریں گے۔
ایس ای سی پی کے مطابق اس فریم ورک سے پاکستانی کمپنیوں کو اپنے ماحولیاتی، سماجی اور گورننس کے معیار بہتر بنانے کی ترغیب ملے گی، جس سے انہیں پائیدار سرمایہ کاری کے سرمائے تک بہتر رسائی حاصل ہوگی اور ذمہ دارانہ کارپوریٹ طرزِ عمل کو بھی فروغ ملے گا۔
سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مارکیٹ کے شفاف نظام کو یقینی بنانے کے لیے فریم ورک کے تحت ای ایس جی میوچل فنڈز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنے خالص اثاثوں کا کم از کم 50 فیصد ای ایس جی سے ہم آہنگ سرمایہ کاری میں لگائیں۔ اس کے علاوہ گورننس، معلومات کے افشا اور آزادانہ جانچ سے متعلق تقاضے بھی متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ گرین واشنگ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور شفافیت و جوابدہی کو فروغ دیا جا سکے۔
ایس ای سی پی نے کہا کہ ای ایس جی میوچل فنڈز فریم ورک اس کے وسیع تر پائیداری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ کمیشن گزشتہ چند برسوں کے دوران فہرست شدہ کمپنیوں کے لیے ای ایس جی ڈسکلوزر گائیڈ لائنز جاری کر چکا ہے، آئی ایف آر ایس سسٹین ایبلٹی ڈسکلوزر اسٹینڈرڈز (آئی ایف آر ایس S1 اور آئی ایف آر ایس S2) اختیار کر چکا ہے، ای ایس جی سسٹین پلیٹ فارم متعارف کرا چکا ہے اور پاکستان کی گرین ٹیکسانومی بھی تیار کر چکا ہے۔
کمیشن کے مطابق ان اصلاحات سے پاکستان میں پائیدار مالیاتی نظام مضبوط ہوگا اور ملک کی سرمایہ مارکیٹ ذمہ دارانہ اور طویل المدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے مزید پرکشش بنے گی۔


Comments