BR100 Increased By (1.82%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (2.08%)
KSE30 Increased By (2.29%)
BAFL 61.40 Increased By ▲ 4.73 (8.35%)
BIPL 27.44 Increased By ▲ 0.43 (1.59%)
BOP 36.31 Increased By ▲ 1.22 (3.48%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 19.96 Increased By ▲ 0.29 (1.47%)
DGKC 227.14 Increased By ▲ 3.87 (1.73%)
FABL 101.46 Increased By ▲ 2.22 (2.24%)
FCCL 59.28 Increased By ▲ 1.73 (3.01%)
FFL 17.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 24.11 Increased By ▲ 0.74 (3.17%)
HBL 307.45 Increased By ▲ 15.24 (5.22%)
HUBC 233.14 Decreased By ▼ -0.31 (-0.13%)
HUMNL 11.50 Increased By ▲ 0.33 (2.95%)
KEL 8.33 Decreased By ▼ -0.21 (-2.46%)
LOTCHEM 28.19 Increased By ▲ 0.12 (0.43%)
MLCF 107.43 Increased By ▲ 0.52 (0.49%)
OGDC 334.91 Increased By ▲ 0.04 (0.01%)
PAEL 45.42 Decreased By ▼ -0.03 (-0.07%)
PIBTL 18.85 Decreased By ▼ -0.23 (-1.21%)
PIOC 280.46 Decreased By ▼ -2.91 (-1.03%)
PPL 243.74 Increased By ▲ 1.12 (0.46%)
PRL 36.24 Increased By ▲ 0.57 (1.6%)
SNGP 119.63 Decreased By ▼ -1.30 (-1.08%)
SSGC 31.85 Decreased By ▼ -0.23 (-0.72%)
TELE 9.02 Increased By ▲ 0.15 (1.69%)
TPLP 10.72 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
TRG 64.31 Increased By ▲ 0.64 (1.01%)
UNITY 10.91 Increased By ▲ 0.09 (0.83%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.04 (3.2%)

پاکستان کے جمہوری ارتقا کی داستان کئی حوالوں سے اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی میں ناکامی کی عکاس ہے جس کے گورننس اور ترقی دونوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مرکز سے صوبوں کو اختیارات کی نمایاں منتقلی کی گئی اور مقامی حکومتوں کو عوامی شمولیت پر مبنی طرزِ حکمرانی کی بنیاد قرار دیا گیا، تاہم مختلف ادوار میں صوبوں میں برسراقتدار رہنے والی جماعتوں نے اختیارات کو مزید نچلی سطح تک منتقل کرنے سے گریز کیا۔ اس طرزِ عمل نے ان کے جمہوریت مخالف اور مرکزیت پسند رجحانات کو بے نقاب کیا جس کے نتیجے میں جمہوری عمل کے استحکام اور جامع ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے یہی گریز وسائل کی تقسیم میں بھی واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2026-27 میں وفاق سے صوبوں کو متوقع 9.2 کھرب روپے کی منتقلی میں سے صرف 1.8 کھرب روپے ہی مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وسائل کی اتنی قلیل فراہمی اُن مسائل سے نمٹنے کے لیے ہرگز کافی نہیں جو براہِ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتے ہیں جن میں خستہ حال بلدیاتی انفرااسٹرکچر، ناقص صفائی و نکاسیٔ آب، کمزور بنیادی صحت کی سہولیات اور تعلیم کا غیر مؤثر نظام شامل ہیں۔ اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ حکومت کی وہ سطح جو عوام کے سب سے زیادہ قریب ہے، وہی سرکاری وسائل سے سب سے زیادہ محروم ہے۔ یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ نقصان دہ ہے کہ حکمرانی کے تینوں درجوں میں مقامی حکومت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ عوام کے قریب ہونے اور مقامی ضروریات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پورا کرنے کی صلاحیت رکھنے کے باعث یہی سطح ریاست اور شہریوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وسائل کا سب سے کم حصہ دیا جاتا ہے اور مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے درکار اختیارات اور خودمختاری بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ اس کا نتیجہ پاکستان میں ترقیاتی پسماندگی، شہری انتظامیہ کی زبوں حالی، عوامی خدمات کی ناقص فراہمی، انسانی ترقی کے کمزور اشاریوں اور مجموعی معیارِ زندگی کی مسلسل گراوٹ کی صورت میں نمایاں ہے۔

اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ خود آئینی ڈھانچہ ہے۔ اگرچہ آئین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں سے متعلق مفصل ابواب موجود ہیں مگر مقامی حکومتوں کا ذکر نہایت محدود انداز میں کیا گیا ہے اور یہ کمی اتنی نمایاں ہے کہ گویا دانستہ محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ منتخب مقامی حکومتیں قائم کریں اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اختیارات کس طریقۂ کار کے تحت منتقل ہوں گے یا کون سے اختیارات لازماً مقامی حکومتوں کے پاس ہوں گے۔ یوں یہ اہم فیصلے صوبائی اسمبلیوں پر چھوڑ دیے گئے جس سے سیاسی مصلحتوں اور اختیارات کے ارتکاز کی گنجائش پیدا ہوگئی۔وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی واضح آئینی تقسیم کے برعکس مقامی حکومتوں کو منتقل کیے جانے والے اختیارات کی کوئی یکساں فہرست موجود نہیں۔ اسی طرح آئین نہ تو مقامی حکومتوں کے لیے صوبائی آمدنی میں کم از کم حصے کی ضمانت دیتا ہے نہ ان کی آئینی مدت کا واضح تعین کرتا ہے، نہ مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت میں انتخابات کرانے کو لازمی قرار دیتا ہے اور نہ ہی انہیں صوبائی حکومتوں کی من مانی تحلیل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔نتیجتاً صوبائی حکومتیں بتدریج وہ اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں سمیٹتی چلی گئی ہیں جو دراصل مقامی حکومتوں کے پاس ہونے چاہییں تھے اور ان اختیارات کو یا تو غیر منتخب بیوروکریسی کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے یا ایسے منتخب نمائندوں کے ذریعے جن کی صوبائی سرپرستی پر انحصار عوام کے سامنے جوابدہی سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں مقامی طرزِ حکمرانی پر برسوں سے طاری اس جمود کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ کسی طور قابلِ دفاع نہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلدیاتی انتخابات ہی نہیں کرائے گئے جبکہ دیگر صوبوں نے بھی زیادہ تر صرف آئینی تقاضا پورا کرتے ہوئے بلدیاتی ادارے تو قائم کیے مگر انہیں حقیقی اختیارات اور وسائل دینے سے گریز کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جامع آئینی فریم ورک تشکیل دیا جائے جو مقامی حکومتوں کے اختیارات، ذمہ داریوں، مدتِ کار اور مالی خودمختاری کو واضح طور پر متعین کرے اور مقررہ مدت کے اندر باقاعدگی سے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف بلدیاتی انتخابات کی آئینی ضمانت فراہم کرے۔بلدیاتی اداروں کو منتقل کیے گئے شعبوں پر واضح اختیار، اپنے محصولات جمع کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق، نیز صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈز کے ذریعے صوبائی وسائل میں ایک یقینی حصہ دیا جانا چاہیے۔مختصراً، اب اقتدار میں موجود حلقوں کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہا کہ وہ آئینی ابہام کو بہانہ بنا کر اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کے نامکمل جمہوری عمل کو مزید التوا کا شکار رکھیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف