شادی کے تحائف اور زیورات پر صرف دلہن کا حقِ ملکیت ہے، سپریم کورٹ
- سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خاندانی عدالتیں قانون کے مطابق ایسے دعووں کا فیصلہ کر سکتی ہیں
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے تمام زیورات، تحائف اور دیگر اشیا صرف اسی کی ملکیت ہیں، خواہ وہ اس کے والدین نے دی ہوں یا سسرال والوں نے۔ یہ رپورٹ آج نیوز نے منگل کے روز دی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ شادی کے وقت دلہن کو دیے جانے والے زیورات، تحائف اور دیگر سامان پر قانونی طور پر صرف اسی کا حقِ ملکیت ہے، اور نہ شوہر اور نہ ہی اس کے اہلِ خانہ ان پر ملکیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ خاندانی عدالتیں خواتین کے زیورات، شادی کے تحائف اور دیگر ذاتی اشیا کی واپسی سے متعلق تنازعات کی سماعت اور ان کا فیصلہ کرنے کا قانونی اختیار رکھتی ہیں۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے سنایا، جبکہ تحریری فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے قلم بند کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے زیورات کی واپسی کے لیے شوہر کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں ایک بار پھر واضح کیا کہ خاتون کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے سونے کے زیورات اور دیگر ذاتی املاک کی واپسی کے لیے شوہر یا سسرال والوں کے خلاف خاندانی عدالت سے رجوع کرے۔
عدالت نے قرار دیا کہ خاندانی عدالتیں قانون کے مطابق ایسے دعووں کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہیں۔ اس فیصلے سے شادی کے موقع پر ملنے والے تحائف اور زیورات پر دلہن کے حقِ ملکیت کو مزید قانونی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔


Comments