BR100 Increased By (0.43%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 59.50 Increased By ▲ 0.36 (0.61%)
BIPL 26.76 Increased By ▲ 0.14 (0.53%)
BOP 35.46 Increased By ▲ 0.34 (0.97%)
CNERGY 8.24 Increased By ▲ 0.09 (1.1%)
DFML 19.80 Increased By ▲ 0.11 (0.56%)
DGKC 220.30 Increased By ▲ 1.68 (0.77%)
FABL 96.99 Decreased By ▼ -0.07 (-0.07%)
FCCL 57.81 Increased By ▲ 1.06 (1.87%)
FFL 17.96 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 23.40 Decreased By ▼ -0.26 (-1.1%)
HBL 296.66 Increased By ▲ 3.67 (1.25%)
HUBC 231.93 Increased By ▲ 0.12 (0.05%)
HUMNL 11.12 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.61 Increased By ▲ 0.19 (2.26%)
LOTCHEM 28.35 Increased By ▲ 0.13 (0.46%)
MLCF 105.16 Increased By ▲ 1.86 (1.8%)
OGDC 339.15 Increased By ▲ 0.98 (0.29%)
PAEL 44.55 Increased By ▲ 1.08 (2.48%)
PIBTL 18.81 Increased By ▲ 1.11 (6.27%)
PIOC 270.99 Increased By ▲ 0.99 (0.37%)
PPL 246.20 Increased By ▲ 1.88 (0.77%)
PRL 35.25 Decreased By ▼ -0.18 (-0.51%)
SNGP 123.00 Decreased By ▼ -2.66 (-2.12%)
SSGC 32.00 Decreased By ▼ -0.94 (-2.85%)
TELE 8.89 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
TPLP 10.76 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
TRG 64.68 Decreased By ▼ -0.22 (-0.34%)
UNITY 11.25 Increased By ▲ 0.22 (1.99%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.02 (1.6%)
پاکستان

ٹیکس چوری کی روک تھام: وزیراعلیٰ پنجاب کی کاروباری ٹرانزیکشنز کی نگرانی کی ہدایت

  • اگر دنیا نقد سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف جا سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں، مریم نواز شریف
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 02:18pm

حکومتِ پنجاب نے کاروباری لین دین کی درست نگرانی اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے شادی ہالز، مارکیز، فارم ہاؤسز اور بڑے فوڈ چینز میں سرویلنس کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی محصولات سے متعلق ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا گیا جہاں حکام نے شرکاء کو ریونیو کی وصولی اور پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔

بریفنگ کے مطابق بڑے فوڈ چینز، شادی ہالز اور فارم ہاؤسز پر ہونے والے ہر لین دین کو ریکارڈ اور مانیٹر کیا جائے گا۔ اجلاس میں جعلی رسیدیں جاری کرنے یا سیلز کو چھپانے میں ملوث کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے حکام کو ٹیکس وصولی اور سیکٹرل میپنگ پر ہفتہ وار رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ نقد رقم پر مبنی معیشت سے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی طرف بتدریج منتقلی کا حکم بھی دیا۔

اجلاس میں معاشی سرگرمیوں میں شفافیت اور دستاویزی عمل کو بہتر بنانے کے لیے بڑے ریستورنٹس میں نقد لین دین کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات نصب کرنے کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ریمارکس دیے کہ اگر دنیا نقد سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف جا سکتی ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ انہوں نے ٹیکس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیمرے کی آنکھ اسے دیکھے گی اور ڈیجیٹل سسٹم بھی اسے پکڑ لے گا۔

اجلاس کو حکام کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 27-2026 کے لیے 528.5 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

بریفنگ میں مزید انکشاف ہوا کہ پنجاب کی ریونیو وصولی میں 38 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے کلیکشن 250 ارب روپے سے بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی آپریشنل رسائی کو بھی صوبے بھر کے 10 اضلاع سے بڑھا کر 26 اضلاع تک کر دیا گیا ہے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ پی آر اے نے نفاذ اور تعمیل کے میکانزم کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، ٹیکس دہندگان کا آڈٹ، اور لیگل ونگز قائم کیے ہیں۔

اتھارٹی کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پی آر اے کی کوششوں کو سراہا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ نفاذ کی صلاحیت کو مزید بڑھائیں، وسائل میں اضافہ کریں اور تنظیم کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کریں۔

اجلاس میں صوبائی محصولات کی وصولی اور ٹیکس کے امور سے متعلق اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف