مستقل دفاعی رویہ : بقا یا کارکردگی؟
- پاکستانی ادارے بقا کے فن میں تو ماہر ہیں مگر کارکردگی میں صفر، یہاں بورڈ میٹنگز تو ہوتی ہیں مگر اصل کام سرے سے غائب ہے
پاکستان میں معاشی بقا کا سفر کسی معجزے سے کم نہیں جہاں وسائل کی قلت کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک بے رحم حقیقت ہے۔ یہاں سرمائے کی دائمی کمی، ناقابلِ بھروسا پالیسیوں اور غلطی کی صفر گنجائش کے باوجود ہمارے اداروں نے وہ فولادی نظم و ضبط اور برداشت پیدا کی جو دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو تالے لگوا دیتی مگر اسی کٹھن ماحول نے ہمیں ایک خطرناک سبق بھی سکھایا، ایک ایسا سبق جس نے آگے بڑھنے کے عزائم کو خاموشی سے محفوظ رہنے کی مصلحت پسندی میں بدل دیا اور معیشت کو ترقی کے نام پر ایک ابدی جمود کا شکار کر دیا۔
بینکوں نے عدم استحکام کے پے در پے چکروں کے دوران اپنا سرمایہ برقرار رکھنا سیکھا۔ برآمد کنندگان نے توانائی کے بحران اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کو برداشت کیا اور اپنی ترسیلات جاری رکھیں۔ خاندانی کاروباری اداروں نے معاہدوں کے نفاذ کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی میں بھی اپنے کام کو وسعت دی۔ یہاں بقا حاصل کرنا بذاتِ خود ایک کارنامہ ہے اور کسی بھی دوسری بات سے پہلے اس کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کرنا ضروری ہے لیکن اس قلت نے پہلی خصوصیت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا سبق بھی سکھایا اور یہی وہ سبق ہے جس نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایک ایسے نظام میں جہاں سامنے آنے والی غلطیوں پر سزا ملنے کا امکان، ہاتھ سے گنوا دیے جانے والے مواقع کے مقابلے میں کہیں زیادہ یقینی ہو، وہاں ایک سمجھدار پیشہ ور شخص قدر تخلیق کرنے (ویلیو کریڈیشن) کے بجائے خود کو محفوظ رکھنا سیکھتا ہے۔ یہاں احتیاط، امنگ اور بلند نظری پر حاوی ہو جاتی ہے اور الزام سے بچنے کی کوشش کسی نئے انیشیٹو پر بھاری پڑتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ سبق محض حالات کا ایک ردِعمل نہیں رہتا بلکہ پختہ ہو کر ایک مستقل نقطہ نظر بن جاتا ہے۔ اصل بیماری یہی ہے کہ پاکستان کے ادارے صرف وسائل کی قلت کا شکار ہی نہیں ہیں بلکہ انہوں نے قلت کے ہر دور کو خود کو محفوظ رکھنے کی ایک مستقل ثقافت میں تبدیل کرنا سیکھ لیا ہے۔
یہ تبدیلی اس قدر مکمل ہے کہ ہم نے اب اس پر غور کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ تحفظ اب صنعتی پالیسی بن چکا ہے۔ طریقہ کار (پروسیس) اب گورننس بن چکا ہے۔ ضمانت (کولیٹرل) اب بینکنگ بن چکی ہے۔ سرکلرز اب ریگولیشن بن چکے ہیں اور کمیٹیاں اب اصلاحات بن چکی ہیں۔ ہر معاملے میں ایک دفاعی متبادل نے خاموشی سے اصل کام کی جگہ لے لی ہے۔ وہ صنعت جسے تحفظ دیا گیا تھا اب مقابلہ نہیں کرتی بلکہ وہ اپنے تحفظ کو برقرار رکھنے کے لیے لابنگ کرتی ہے اور اسے اپنی حکمتِ عملی کا نام دیتی ہے۔
ریگولیٹر اب مارکیٹ کو وسعت یا گہرائی نہیں دیتا بلکہ وہ ایسا سرکلر جاری کرتا ہے جو اس پر آنے والی تنقید کے امکان کو محدود کر دے اور وہ اسے نگرانی (سپروائزن) کا نام دیتا ہے۔ بینک اب کسی ایسے قرض دار کی جانچ پڑتال نہیں کرتا جس کا کام مشکل لیکن زیادہ پیداواری ہو بلکہ وہ سرکاری کاغذات اور ضمانتوں میں اپنا سرمایہ لگا دیتا ہے اور اسے تدبر و دانش کا نام دیتا ہے۔
ادارہ اب مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ وہ کمیٹی بناتا ہے، ڈھانچہ تیار کرتا اور اسے ترقی کا نام دیتا ہے۔ ان میں سے ہر متبادل اپنے طور پر قابلِ دفاع دکھائی دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی معیشت کی عکاسی کرتے ہیں جو بظاہر بہت مصروف نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں مکمل طور پر جامد ہے۔
اس نظام کو جو چیز اتنی پائیدار بناتی ہے وہ یہ ہے کہ انفرادی سطح پر اس میں سے کچھ بھی غیر منطقی یا غلط نہیں ہے۔ وہ بینکر جو کسی مشکل قرضے کی منظوری دینے سے انکار کرتا ہے وہ اپنا ریکارڈ صاف رکھتا ہے۔ وہ سرکاری افسر جو صوابدیدی فیصلہ لینے سے گریز کرتا ہے وہ آڈٹ سے بچ جاتا ہے۔
وہ ریگولیٹر جو کبھی مارکیٹ کی ترقی کی کوشش ہی نہیں کرتا وہ کبھی اخبارات کی سرخیوں میں نہیں آتا۔ ہر شخص سمجھداری سے کام لیتا ہے اور ادارہ مجموعی طور پر کہیں آگے نہیں بڑھ پاتا یعنی ہزاروں محتاط فیصلے مل کر ایک اجتماعی مفلوج حالت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہی وہ جال ہے اور یہ ایسا جال نہیں جس سے لوگ مزید احتیاط برت کر نکل سکیں۔
اس جمود کو کامیابی کے ذریعے ٹوٹنا چاہیے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ ناکامی انتہائی ہولناک ثابت ہوتی ہے۔ کامیابی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ گرفت کو ڈھیلا کرے اور مشکل سے حاصل کی گئی ساکھ اور مضبوط بیلنس شیٹ کو مزید مشکل کاموں کی کوشش کے لیے استعمال کرے، اس کے برعکس ایک کے بعد دوسرے ادارے میں اس کا بالکل الٹ ہوتا ہے۔ وہ کمپنی جس نے بقا کے لیے جنگ لڑی تھی وہ اپنی کامیابی کو مزید تحفظ خریدنے میں صرف کر دیتی ہے۔
وہ بینک جس نے خطرات کو بھانپنے کا ایک پورا شعبہ (رسک فنکشن) بنایا تھا وہ اسے بنیادی طور پر صرف ناواقف قرض داروں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ ریگولیٹر جس نے وسیع اختیارات جمع کیے تھے وہ انہیں الزام سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ دفاعی انداز ٹھیک اس وقت مزید شدید ہو جاتا ہے جب اسے کم ہونا چاہیے تھا۔ بلند نظر ہونے کا حق حاصل کرنے کے بعد ادارہ اس کے بجائے صرف محفوظ رہنے کا انتخاب کرتا ہے اور اپنی اس کمزوری کو پختگی سمجھ بیٹھتا ہے۔
اس کی قیمت فیصلے کی قوت کی سست موت کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ لوگ یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ سچ کیا ہے اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ محفوظ کیا ہے، یہ پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں کہ کس چیز سے قدر تخلیق ہوگی اور یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کس چیز سے ان کا عہدہ محفوظ رہے گا۔
ادارہ بقا حاصل کرنے میں تو ماہر ہو جاتا ہے، ایک اور چکر، ایک اور جائزہ، ایک اور بورڈ میٹنگ گزر جاتی ہے لیکن وہ اس اصل کام میں رتی برابر بھی بہتر نہیں ہو پاتا جس کے لیے وہ وجود میں آیا تھا لیکن بقا کا مطلب کارکردگی نہیں ہے اور پاکستان ایسے اداروں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے بقا کے فن میں تو مہارت حاصل کر لی ہے لیکن کارکردگی کو خاموشی سے خیرباد کہہ دیا ہے۔
اس دلدل سے نکلنے کا راستہ کوئی نیا ڈھانچہ یا فریم ورک نہیں ہے۔ اس کا حل ایک مختلف قسم کا پیشہ ور شخص (پروفیشنل) ہے یعنی ایک ایسا شخص جو اپنے کام پر مکمل گرفت رکھتا ہو اور اس کام میں اسے اس قدر تحفظ حاصل ہو کہ وہ دفاعی پوزیشن چھوڑ کر کچھ نیا تخلیق کرنا شروع کرے۔
آپ اسے قلت کے خوف سے آزاد پیشہ ور (پوسٹ اسکیرسٹی پروفیشنل) کہہ سکتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس کی مجبوریاں یا رکاوٹیں ختم ہو چکی ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ اب اپنا مقام، شناخت یا اہمیت کھو دینے کے خوف کے تابع نہیں ہے۔ وہ کم پُرعزم نہیں ہے وہ بس کم خوفزدہ ہے۔
اسے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور وہ اس چیلنج کو اپنے اوپر حملہ نہیں سمجھتا، وہ اپنے مؤقف پر نظرثانی کر سکتا ہے بغیر یہ محسوس کیے کہ اس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور وہ اپنے کام پر ہونے والی تنقید اور اپنی ذات پر ہونے والی تنقید میں فرق کر سکتا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں بنیادی سوال تبدیل ہو جاتا ہے، سوال یہ نہیں رہتا کہ اپنے عہدے کو کیسے بچایا جائے بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اصل میں قدر (ویلیو) کس چیز سے تخلیق ہوگی اور جس ادارے میں ایسے لوگ موجود ہوں وہ محض حرکت کرنے اور حقیقی ترقی کے فرق کو خلط ملط نہیں کرتا۔
پاکستان نے اتنی رپورٹس، فریم ورکس اور اصلاحاتی حکمتِ عملیاں تیار کی ہیں جن سے ایک پورا آرکائیو (ریکارڈ روم) کئی بار بھرا جا سکتا ہے لیکن جس چیز کی یہاں شدید ترین کمی رہی ہے وہ ہے سب کے سامنے غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ، ایک مشکل قرضہ دینے کا خطرہ مول لینا، صوابدیدی فیصلہ کرنا اور غیر محفوظ مارکیٹ میں قدم رکھنا کیونکہ یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں سے ہمیشہ حقیقی قدر (ویلیو) جنم لیتی ہے۔
جب تک خود کو محفوظ رکھنے کے عمل کو بنیادی مقصد کے درجے سے ہٹا کر محض ایک عام مجبوری یا حد کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا، یہ مشینری اسی طرح چلتی رہے گی، فائلیں آگے بڑھتی رہیں گی اور ادارے اپنی مستقل بقا کو ہی وہ کارکردگی سمجھتے رہیں گے جس کی فراہمی کے لیے انہیں بنایا گیا تھا۔


Comments