پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لے لیتی ہے
- تمباکو نوشی ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے
پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال اندازاً 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لیتی ہے اور ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ عادت 1 کروڑ 83 لاکھ بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے، جن میں ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی مرد شامل ہے، حالانکہ سائنسی طور پر اسے کئی دہائیوں قبل قابلِ روک تھام قرار دیا جا چکا ہے۔
ایک نئی تحقیق سوئچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد متبادل مصنوعات اختیار کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہے کیونکہ انہیں ان مصنوعات کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سروے پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مطالعہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں 1,600 بالغ افراد، جن میں 1,085 تصدیق شدہ سگریٹ نوش افراد شامل تھے، کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق 59.3 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ویپ اور نکوٹین پاؤچز سگریٹ سے زیادہ خطرناک ہیں، جبکہ 56.6 فیصد افراد کا خیال ہے کہ کینسر کی وجہ نکوٹین ہے نہ کہ سگریٹ کا جلنا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بنیادی غلط فہمی سائنسی بنیاد پر نقصان کم کرنے کے تصور کو کمزور کر دیتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بعض اینٹی تمباکو ادارے اور عوامی صحت کی مہمات بھی شامل ہیں جو تمام نکوٹین مصنوعات کو ایک جیسا خطرناک قرار دیتی ہیں۔ نتیجتاً عوام کو درست اور سائنسی معلومات نہیں مل رہیں۔
ماہرین کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ غلط معلومات کے تدارک کے لیے اقدامات کرے اور عوام کو شواہد پر مبنی درست آگاہی فراہم کرے تاکہ تمباکو نوشی کے نقصانات میں مؤثر کمی لائی جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments