BR100 Decreased By (-0.49%)
BR30 Decreased By (-0.47%)
KSE100 Decreased By (-0.33%)
KSE30 Decreased By (-0.33%)
BAFL 58.00 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 25.46 Decreased By ▼ -0.10 (-0.39%)
BOP 33.88 Increased By ▲ 0.28 (0.83%)
CNERGY 8.15 Decreased By ▼ -0.09 (-1.09%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.14 (-0.72%)
DGKC 193.80 Decreased By ▼ -2.11 (-1.08%)
FABL 88.70 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 52.40 Decreased By ▼ -0.51 (-0.96%)
FFL 17.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
GGL 20.46 Decreased By ▼ -0.24 (-1.16%)
HBL 282.90 Decreased By ▼ -1.91 (-0.67%)
HUBC 213.80 Decreased By ▼ -1.15 (-0.54%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 7.89 Decreased By ▼ -0.08 (-1%)
LOTCHEM 28.98 Decreased By ▼ -0.21 (-0.72%)
MLCF 85.99 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
OGDC 317.49 Decreased By ▼ -2.14 (-0.67%)
PAEL 40.63 Increased By ▲ 0.42 (1.04%)
PIBTL 17.08 Decreased By ▼ -0.24 (-1.39%)
PIOC 269.99 Increased By ▲ 1.28 (0.48%)
PPL 224.50 Decreased By ▼ -0.80 (-0.36%)
PRL 34.42 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
SNGP 100.35 Decreased By ▼ -0.61 (-0.6%)
SSGC 26.81 Increased By ▲ 0.05 (0.19%)
TELE 9.22 Increased By ▲ 0.26 (2.9%)
TPLP 11.10 Decreased By ▼ -0.21 (-1.86%)
TRG 71.00 Decreased By ▼ -0.67 (-0.93%)
UNITY 11.62 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لے لیتی ہے

  • تمباکو نوشی ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 11:19am

پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال اندازاً 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لیتی ہے اور ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ عادت 1 کروڑ 83 لاکھ بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے، جن میں ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی مرد شامل ہے، حالانکہ سائنسی طور پر اسے کئی دہائیوں قبل قابلِ روک تھام قرار دیا جا چکا ہے۔

ایک نئی تحقیق سوئچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد متبادل مصنوعات اختیار کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہے کیونکہ انہیں ان مصنوعات کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سروے پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مطالعہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں 1,600 بالغ افراد، جن میں 1,085 تصدیق شدہ سگریٹ نوش افراد شامل تھے، کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق 59.3 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ویپ اور نکوٹین پاؤچز سگریٹ سے زیادہ خطرناک ہیں، جبکہ 56.6 فیصد افراد کا خیال ہے کہ کینسر کی وجہ نکوٹین ہے نہ کہ سگریٹ کا جلنا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بنیادی غلط فہمی سائنسی بنیاد پر نقصان کم کرنے کے تصور کو کمزور کر دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بعض اینٹی تمباکو ادارے اور عوامی صحت کی مہمات بھی شامل ہیں جو تمام نکوٹین مصنوعات کو ایک جیسا خطرناک قرار دیتی ہیں۔ نتیجتاً عوام کو درست اور سائنسی معلومات نہیں مل رہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ غلط معلومات کے تدارک کے لیے اقدامات کرے اور عوام کو شواہد پر مبنی درست آگاہی فراہم کرے تاکہ تمباکو نوشی کے نقصانات میں مؤثر کمی لائی جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف