BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
پاکستان

پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لے لیتی ہے

  • تمباکو نوشی ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں تمباکو نوشی ہر سال اندازاً 1 لاکھ 64 ہزار جانیں لیتی ہے اور ملک کو صحت کے شعبے اور پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں تقریباً 422 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ عادت 1 کروڑ 83 لاکھ بالغ افراد کو متاثر کرتی ہے، جن میں ہر پانچ میں سے ایک پاکستانی مرد شامل ہے، حالانکہ سائنسی طور پر اسے کئی دہائیوں قبل قابلِ روک تھام قرار دیا جا چکا ہے۔

ایک نئی تحقیق سوئچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی بڑی تعداد متبادل مصنوعات اختیار کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہے کیونکہ انہیں ان مصنوعات کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ سروے پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مطالعہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں 1,600 بالغ افراد، جن میں 1,085 تصدیق شدہ سگریٹ نوش افراد شامل تھے، کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق 59.3 فیصد افراد سمجھتے ہیں کہ ویپ اور نکوٹین پاؤچز سگریٹ سے زیادہ خطرناک ہیں، جبکہ 56.6 فیصد افراد کا خیال ہے کہ کینسر کی وجہ نکوٹین ہے نہ کہ سگریٹ کا جلنا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بنیادی غلط فہمی سائنسی بنیاد پر نقصان کم کرنے کے تصور کو کمزور کر دیتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ میں بعض اینٹی تمباکو ادارے اور عوامی صحت کی مہمات بھی شامل ہیں جو تمام نکوٹین مصنوعات کو ایک جیسا خطرناک قرار دیتی ہیں۔ نتیجتاً عوام کو درست اور سائنسی معلومات نہیں مل رہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ غلط معلومات کے تدارک کے لیے اقدامات کرے اور عوام کو شواہد پر مبنی درست آگاہی فراہم کرے تاکہ تمباکو نوشی کے نقصانات میں مؤثر کمی لائی جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف