ایران پر امریکی حملوں کے بعد ڈالر مستحکم
- یورو 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.1537 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.04 فیصد گر کر 1.337 ڈالر پر آ گیا
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کے بعد بدھ کے روز ڈالر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار امریکا کے اہم افراطِ زر (مہنگائی) کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں جو فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے بارے میں اشارے فراہم کر سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا، جس کے جواب میں امریکا نے منگل کو ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان امن کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے، تاہم ٹرمپ نے بعد میں اس واقعے کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں تھا اور پائلٹ محفوظ ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ڈالر انڈیکس، جو ڈالر کی کارکردگی کو بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، معمولی اضافے کے ساتھ 100.02 پر پہنچ گیا۔ یورو 0.05 فیصد کمی کے ساتھ 1.1537 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.04 فیصد گر کر 1.337 ڈالر پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق امریکی معیشت توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نسبتاً کم متاثر ہوتی ہے، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار ڈالر کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ اس رجحان نے یورو اور جاپانی ین پر دباؤ بڑھایا ہے۔
جاپانی ین بھی معمولی کمزوری کے ساتھ 160.38 ین فی ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔ اسی دوران جاپان میں ہول سیل قیمتوں میں مئی کے دوران 6.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
مارکیٹوں کی نظریں اب امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ظاہر ہوا تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہوں گی، جس سے ڈالر کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔ دوسری جانب یورپی مرکزی بینک کے اجلاس میں بھی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔


Comments