BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-1.61%)
KSE100 Decreased By (-0.79%)
KSE30 Decreased By (-0.78%)
BAFL 56.93 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.30 (-0.99%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.80 Decreased By ▼ -4.65 (-2.42%)
FABL 93.51 Decreased By ▼ -0.63 (-0.67%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.06 Decreased By ▼ -0.50 (-2.56%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.25 Decreased By ▼ -2.17 (-1.08%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.27 Decreased By ▼ -0.19 (-0.72%)
MLCF 90.99 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.08 Decreased By ▼ -0.55 (-1.54%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 221.19 Decreased By ▼ -5.72 (-2.52%)
PRL 91.19 Decreased By ▼ -1.83 (-1.97%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.22 Decreased By ▼ -0.59 (-2.48%)
TELE 7.55 Decreased By ▼ -0.25 (-3.21%)
TPLP 12.57 Decreased By ▼ -0.40 (-3.08%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

غذائی تحفظ کیلئے جامع حکمتِ عملی پر عمل جاری ہے، وزیراعظم

  • عوام کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی دی جائے گی، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، خوراک کی حفاظت کو بہتر کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

ورلڈ فوڈ سیفٹی ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ عوام کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی دی جائے گی جو بیماریوں اور آلودگی کے خطرات سے پاک ہو۔

انہوں نے کسانوں، مویشی پالنے والوں، ماہی گیروں، محققین اور زرعی و غذائی نظام سے وابستہ تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی محنت غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیرِاعظم نے اس سال کے عالمی یومِ خوراک کے موضوع “From Burden to Solutions: Safe Food Everywhere” کا حوالہ دیتے ہوئے خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور خطرات کی روک تھام، نشاندہی اور مؤثر انتظام کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 86 کروڑ 60 لاکھ افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار ہوتے ہیں جبکہ تقریباً 15 لاکھ افراد خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ غیر محفوظ خوراک نہ صرف صحت کے سنگین مسائل پیدا کرتی ہے بلکہ اس سے معاشی نقصان، علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، پیداوار میں کمی اور سیاحت و تجارت پر منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ زرخیز زمین، وافر وسائل اور محنتی کسانوں کی بدولت بڑی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اسے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی، آبادی میں اضافہ، بدلتی ہوئی غذائی ترجیحات اور تحقیق کی محدود صلاحیت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے جن میں معیاری بیجوں کی فراہمی، زرعی وسائل تک بہتر رسائی، مشینری کے استعمال میں اضافہ، ویلیو چینز کی مضبوطی، ذخیرہ کرنے کی بہتر سہولیات اور مارکیٹ سسٹمز کی بہتری شامل ہیں۔

وزیرِاعظم نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، تعلیمی و تحقیقی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، میڈیا اور ترقیاتی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ مل کر محفوظ، پائیدار اور مضبوط غذائی نظام کے قیام کے لیے کام کریں۔

انہوں نے شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ خوراک کی صفائی اور محفوظ استعمال کے اصولوں کو اپنائیں اور ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور خود کفیل غذائی مستقبل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

Comments

200 حروف