مشرقِ وسطیٰ تناؤ اور بڑھتے اخراجات، آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم کردیا گیا
- یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے، اسٹیک ہولڈرز
پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی تناؤ، مال برداری اخراجات، موسمیاتی چیلنجز اور پھل کی پیداوار میں کمی کے شدید دباؤ کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا برآمدی ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔
انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔
پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق برآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور مالیات کے شعبے میں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔
وحید احمد نے کے مطابق تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم کر کے اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔
اس کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین (11 کروڑ) امریکی ڈالر کمائے تھے لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر 75 ملین سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments