BR100 Decreased By (-1.21%)
BR30 Decreased By (-1.49%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 57.10 Decreased By ▼ -0.59 (-1.02%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.32 (-1.17%)
BOP 33.80 Decreased By ▼ -0.39 (-1.14%)
CNERGY 9.79 Increased By ▲ 0.17 (1.77%)
DFML 18.50 Decreased By ▼ -0.13 (-0.7%)
DGKC 207.90 Decreased By ▼ -5.13 (-2.41%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.79 (-1.78%)
FCCL 53.80 Decreased By ▼ -0.35 (-0.65%)
FFL 16.70 Decreased By ▼ -0.14 (-0.83%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.54%)
HBL 305.64 Decreased By ▼ -3.62 (-1.17%)
HUBC 218.18 Decreased By ▼ -3.35 (-1.51%)
HUMNL 10.68 Decreased By ▼ -0.21 (-1.93%)
KEL 7.33 Decreased By ▼ -0.26 (-3.43%)
LOTCHEM 29.20 Decreased By ▼ -1.23 (-4.04%)
MLCF 96.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.11%)
OGDC 318.00 Decreased By ▼ -5.36 (-1.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.25 (-0.59%)
PIBTL 16.57 Decreased By ▼ -0.25 (-1.49%)
PIOC 281.00 Decreased By ▼ -4.96 (-1.73%)
PPL 220.39 Decreased By ▼ -4.34 (-1.93%)
PRL 44.55 Increased By ▲ 2.90 (6.96%)
SNGP 108.00 Decreased By ▼ -2.19 (-1.99%)
SSGC 28.90 Decreased By ▼ -0.41 (-1.4%)
TELE 8.84 Decreased By ▼ -0.15 (-1.67%)
TPLP 12.19 Decreased By ▼ -0.58 (-4.54%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.74%)
UNITY 10.15 Decreased By ▼ -0.22 (-2.12%)
WTL 1.24 Decreased By ▼ -0.03 (-2.36%)
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ تناؤ اور بڑھتے اخراجات، آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم کردیا گیا

  • یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے، اسٹیک ہولڈرز
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی تناؤ، مال برداری اخراجات، موسمیاتی چیلنجز اور پھل کی پیداوار میں کمی کے شدید دباؤ کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا برآمدی ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔

انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق برآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور مالیات کے شعبے میں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔

وحید احمد نے کے مطابق تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم کر کے اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔

اس کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین (11 کروڑ) امریکی ڈالر کمائے تھے لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر 75 ملین سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف