BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.30 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.65 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.08 Decreased By ▼ -0.17 (-0.58%)
CNERGY 12.52 Increased By ▲ 0.13 (1.05%)
DFML 16.46 Decreased By ▼ -0.14 (-0.84%)
DGKC 184.38 Decreased By ▼ -1.14 (-0.61%)
FABL 92.13 Decreased By ▼ -0.54 (-0.58%)
FCCL 52.12 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.14 (0.73%)
HBL 295.76 Decreased By ▼ -4.10 (-1.37%)
HUBC 200.15 Increased By ▲ 0.48 (0.24%)
HUMNL 9.38 Increased By ▲ 0.07 (0.75%)
KEL 6.05 Increased By ▲ 0.09 (1.51%)
LOTCHEM 26.38 Decreased By ▼ -0.22 (-0.83%)
MLCF 90.63 Decreased By ▼ -0.32 (-0.35%)
OGDC 306.12 Decreased By ▼ -2.54 (-0.82%)
PAEL 33.96 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
PIBTL 13.52 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 235.46 Decreased By ▼ -1.15 (-0.49%)
PPL 218.94 Increased By ▲ 0.59 (0.27%)
PRL 93.07 Increased By ▲ 1.95 (2.14%)
SNGP 90.35 Decreased By ▼ -0.89 (-0.98%)
SSGC 23.06 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.38 Increased By ▲ 0.58 (4.92%)
TRG 55.29 Increased By ▲ 0.07 (0.13%)
UNITY 7.73 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.99 Decreased By ▼ -0.01 (-1%)
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ تناؤ اور بڑھتے اخراجات، آم کا برآمدی ہدف 30 فیصد کم کردیا گیا

  • یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے، اسٹیک ہولڈرز
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں آم کی برآمدات کا سیزن یکم جون سے شروع ہوگیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی تناؤ، مال برداری اخراجات، موسمیاتی چیلنجز اور پھل کی پیداوار میں کمی کے شدید دباؤ کے باعث برآمد کنندگان نے اس سال کا برآمدی ہدف تقریباً 30 فیصد تک کم کردیا ہے۔

انڈسٹری سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو خدشہ ہے کہ یہ سیزن مشکل ترین برآمدی سیزنز میں سے ایک ہوسکتا ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق برآمد کنندگان کو لاجسٹکس اور مالیات کے شعبے میں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ علاقائی عدم استحکام نے خلیج کی بڑی مارکیٹوں تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے جو کہ پاکستانی آموں کی سب سے بڑی منزل ہیں۔

وحید احمد نے کے مطابق تجارت کو درپیش غیر معمولی چیلنجز کے پیشِ نظر برآمدی ہدف کو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 10 ہزار ٹن سے کم کر کے اس سال 80 ہزار ٹن کردیا گیا ہے۔

اس کمی کے باعث برآمدی آمدن پر نمایاں اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان نے آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین (11 کروڑ) امریکی ڈالر کمائے تھے لیکن اس سال یہ آمدنی کم ہو کر 75 ملین سے 80 ملین امریکی ڈالر کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف