امتیازی ٹیکسز کے نفاذ پر پی پی ڈبلیو ایس ایم اے کا اظہار تشویش
- امتیازی ٹیکسز سے مقامی مینوفیکچررز پر مؤثر ٹیکس شرح 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے، چیئرمین اسکندر خان، حکومت کو خط
پاکستان پولی پروپیلین وون سیک مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ڈبلیو ایس ایم اے) نے ملک میں امتیازی ٹیکسیشن، غیر دستاویزی تجارتی درآمدات اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکومت کو لکھے گئے خط میں چیمبر کے چیئرمین اسکندر خان نے بتایا کہ مقامی صنعت کی سالانہ پیداواری صلاحیت 5 ارب بیگز (3 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن) ہے، جو سیمنٹ، کھاد اور ٹیکسٹائل جیسے اہم شعبوں کو پیکیجنگ فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کمرشل امپورٹرز کے مقابلے میں مقامی مینوفیکچررز پر مؤثر ٹیکس کی شرح 79 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے انڈسٹری شدید دباؤ میں ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے تمام مینوفیکچررز کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس رجسٹریشن لازمی کی جائے، بیگز پر این ٹی این پرنٹ کیا جائے اور کمرشل درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی سمیت 7 فیصد کم از کم ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد کیا جائے۔ خط میں ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور آڈٹ باڈی کے قیام کی سفارش بھی کی گئی ہے۔


Comments