ای سی سی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیم نو کی منظوری دیدی
- ای سی سی نے وزیراعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام (سابقہ صحت سہولت پروگرام) کے لیے 15 ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے منگل کے روز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی تنظیمِ نو کے لیے اصولی منظوری دیتے ہوئے 30 فیصد حصص کی فروخت اور انتظامی کنٹرول نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے حوالے کرنے کی اجازت دے دی۔
وزارتِ خزانہ و محصولات کے وزیر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملک کی اقتصادی، سماجی اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں قومی پالیسی برائے قیمتی پتھر (2026–2030) کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد معدنی وسائل کے شعبے کو منظم کرنا، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
ای سی سی نے وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے 3 ارب 91 کروڑ 52 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) جاری کرنے کی اجازت دی، جو وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام اور آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دانش اسکولوں کے قیام کے لیے استعمال ہوگی۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی دو سمریوں کی بھی منظوری دی، جن میں وزیراعظم آفس کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے 16 کروڑ روپے اور فرنٹیئر کور خیبرپختونخوا (نارتھ) کے شاکس میں واقع اسپتال کے لیے 48 کروڑ روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے کے بعد وزیراعظم آفس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سی ڈی اے کو منتقل کر دی گئی ہے۔
وزارتِ قومی صحت کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے ای سی سی نے وزیراعظم نیشنل ہیلتھ پروگرام (سابقہ صحت سہولت پروگرام) کے لیے 15 ارب روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی، جو مالی سال 2025-26 کے دوران صحت کی سہولیات کی توسیع کے لیے استعمال ہوگی۔
کشمیر امور اور گلگت بلتستان کی وزارت کی سمری پر فیصلہ کرتے ہوئے 1989 کے جموں و کشمیر مہاجرین کے ماہانہ وظیفے کو 3,500 روپے سے بڑھا کر 6,000 روپے فی کس کرنے کی منظوری دی گئی، جو یکم فروری 2026 سے نافذ ہوگا۔ اس کے لیے 57 کروڑ 88 لاکھ روپے سے زائد کی اضافی گرانٹ بھی منظور کی گئی۔
ریلوے کی وزارت کی جانب سے پیش کی گئی سمری پر ای سی سی نے وزیراعظم اسسٹنس پیکیج کے تحت 1 ارب روپے کی منظوری دی اور ہدایت کی کہ پنشن اور دیگر واجبات کے مجموعی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ریلوے کو ملازمین کی واجبات کی مد میں 21 ارب روپے سے زائد کے چیلنجز کا سامنا ہے۔
مزید برآں، وزارت غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری پر نیشنل ایگریکلچر ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کے لیے 1 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد فوڈ سیفٹی، زرعی معیارات اور بین الاقوامی تجارتی تقاضوں کے مطابق نظام کو بہتر بنانا ہے۔
اجلاس میں مختلف وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور اقتصادی اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments