BR100 Increased By (1.41%)
BR30 Increased By (1.43%)
KSE100 Increased By (1.26%)
KSE30 Increased By (1.33%)
BAFL 58.00 Increased By ▲ 0.80 (1.4%)
BIPL 27.20 Increased By ▲ 0.31 (1.15%)
BOP 34.49 Increased By ▲ 0.80 (2.37%)
CNERGY 10.93 Increased By ▲ 0.32 (3.02%)
DFML 18.38 Increased By ▲ 0.33 (1.83%)
DGKC 212.00 Increased By ▲ 2.10 (1%)
FABL 101.00 Increased By ▲ 2.05 (2.07%)
FCCL 54.87 Increased By ▲ 1.13 (2.1%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 24.88 Increased By ▲ 1.06 (4.45%)
HBL 305.40 Increased By ▲ 2.98 (0.99%)
HUBC 222.26 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
HUMNL 10.59 Increased By ▲ 0.05 (0.47%)
KEL 7.46 Increased By ▲ 0.18 (2.47%)
LOTCHEM 29.97 Increased By ▲ 0.32 (1.08%)
MLCF 96.93 Increased By ▲ 0.57 (0.59%)
OGDC 321.39 Increased By ▲ 3.17 (1%)
PAEL 43.38 Increased By ▲ 1.61 (3.85%)
PIBTL 17.13 Increased By ▲ 0.32 (1.9%)
PIOC 299.97 Increased By ▲ 3.35 (1.13%)
PPL 223.73 Increased By ▲ 3.56 (1.62%)
PRL 52.36 Increased By ▲ 3.31 (6.75%)
SNGP 108.80 Increased By ▲ 2.67 (2.52%)
SSGC 29.61 Increased By ▲ 0.47 (1.61%)
TELE 9.02 Increased By ▲ 0.20 (2.27%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.64 (5.12%)
TRG 60.65 Increased By ▲ 0.43 (0.71%)
UNITY 10.63 Increased By ▲ 0.61 (6.09%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
دنیا

چین نے ٹرمپ، شی سربراہی اجلاس کے بعد ٹیرف میں کمی اور زرعی منڈی تک رسائی میں پیش رفت کا اشارہ دے دیا

  • چین کی وزارتِ تجارت کے مطابق دونوں فریق باہمی تجارت کے فروغ کے خواہاں ہیں، جس میں زرعی مصنوعات کی تجارت بھی شامل ہے
شائع اپ ڈیٹ

چین اور امریکا نے اس ہفتے بیجنگ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد زرعی تجارت کو ٹیرف میں کمی کے ذریعے وسعت دینے اور غیر ٹیرف رکاوٹوں سمیت مارکیٹ تک رسائی کے مسائل کے حل پر اتفاق کیا ہے، چین کی وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز کہا ہے۔

وزارت کے مطابق یہ معاہدے ”ابتدائی نوعیت“ کے ہیں اور انہیں ”جلد از جلد حتمی شکل دی جائے گی“، یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد جاری کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان جوابی ٹیرف کی لہر کے بعد امریکا سے چین کی زرعی درآمدات میں نمایاں کمی آئی تھی، اور 2025 میں یہ تجارت سال بہ سال 65.7 فیصد کمی کے بعد 8.4 ارب ڈالر تک رہ گئی، امریکی محکمۂ زراعت کے ڈیٹا کے مطابق۔

چین کی وزارتِ تجارت نے کہا کہ دونوں فریق مختلف اقدامات کے ذریعے، جن میں باہمی ٹیرف میں کمی بھی شامل ہے، زرعی مصنوعات سمیت دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں، تاہم مخصوص مصنوعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔

چین نے اکتوبر میں ہونے والی ملاقات کے بعد کچھ امریکی زرعی اجناس کی خریداری دوبارہ شروع کی تھی اور فروری کے آخر تک 12 ملین میٹرک ٹن سویا بین خریدنے کے وعدے کو پورا کیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکا سے گندم اور سورگم کی بڑی مقدار بھی خریدی گئی ہے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق سویا بین پر 10 فیصد ٹیرف میں کمی کا امکان ہے، جس سے نجی چینی خریدار دوبارہ مارکیٹ میں آ سکیں گے، جو گزشتہ سال زیادہ تر سرکاری خریداروں تک محدود تھی۔

بیجنگ میں قائم ایگ ریڈار کنسلٹنگ کے بانی جانی ژیانگ نے کہا کہ زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی سے چین-امریکا زرعی تجارت معمول پر آ سکتی ہے اور تجارتی خریدار دوبارہ فعال ہو جائیں گے۔

وزارت نے کہا کہ دونوں ممالک نے غیر ٹیرف رکاوٹوں اور مارکیٹ تک رسائی کے مسائل پر “حل یا نمایاں پیش رفت” پر بھی اتفاق کیا ہے۔

چین امریکا کے خدشات دور کرنے کے لیے گوشت کی سہولیات کی رجسٹریشن اور بعض امریکی ریاستوں سے پولٹری برآمدات کے معاملات پر بھی کام کرے گا۔

بیجنگ نے جمعے کے روز 425 امریکی بیف پلانٹس کی پانچ سالہ رجسٹریشن میں توسیع دی، جن کی رجسٹریشن گزشتہ سال ختم ہونے کے بعد محدود ہو گئی تھی، جبکہ مزید 77 امریکی اداروں کو بھی نئی پانچ سالہ اجازت دے دی گئی۔

امریکی وزیرِ زراعت بروک رولنز نے ہفتے کے روز ایکس پر کہا کہ چین نے بیف سے متعلق وعدوں پر عمل درآمد پر اتفاق کیا ہے، جس میں 17 امریکی ریاستوں سے درآمدات کی بحالی بھی شامل ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے جمعے کے روز کہا کہ امریکا توقع رکھتا ہے کہ چین آئندہ تین سالوں میں ”دو ہندسوں کے اربوں ڈالر“ مالیت کی امریکی زرعی مصنوعات خریدے گا، تاہم دونوں فریقین نے ابھی تک مخصوص مصنوعات، مالیت یا حجم کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

Comments

200 حروف