چینی کمپنی ہائیکونکس کی نظریں پاکستانی مارکیٹ پر
چین کی معروف ہوم اپلائنس اور ٹیکنالوجی کمپنی مائیڈیا گروپ کے تعاون سے کام کرنے والے رینیو ایبل انرجی سلوشنز فراہم کرنے والا ادارہ ہائیکونکس نے آئندہ پانچ سے دس سال کے دوران پاکستان میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے پر غور شروع کر دیاہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان تیزی سے ڈی سینٹرلائزڈ انرجی سسٹمز کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
لاہور میں بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ہائیکونکس کے صدر روب شین نے کہا کہ ان کی کمپنی پاکستان کو ایک اہم مارکیٹ کے طور پر دیکھتی ہے، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں جس میں پاکستان کے ثالثی کردار نے اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کمپنی پاکستان کو توانائی شعبے میں تبدیلی اور سیاسی و جغرافیائی اعتبار سے بھی اہم ملک کے طور پر دیکھتی ہے۔
روب شین نے کہا کہ دنیا بھر میں ہماری 65 پیداواری تنصیبات موجود ہیں، اس لیے یہ بات بالکل منطقی ہے کہ ہم پاکستان میں بھی مینوفیکچرنگ کے امکانات کو آگے بڑھا سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ طویل مدت میں کمپنی پاکستان میں مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
ایگزیکٹو نے پاکستان کے لیے مرحلہ وار توسیعی حکمت عملی پیش کی جس کا آغاز مصنوعات کی فراہمی، ایکو سسٹم کی تیاری (بشمول سروس اسٹرکچر، مقامی دفاتر اور تکنیکی تربیت) سے ہوگا۔ اس کے بعد مقامی سطح پر اسمبلی اور مینوفیکچرنگ ماڈلز کی طرف پیش رفت کی جائے گی جس میں او ڈی ایم، ایس کے ڈی مینوفیکچرنگ اور آخرکار سی کے ڈی آپریشنز شامل ہوں گے۔
شین نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے ٹائم لائن سے متعلق سوال پر کہا کہ ان کے خیال میں اس عمل میں تقریباً پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مینوفیکچرنگ سے متعلق کسی بھی طویل مدتی منصوبے کا انحصار سیاسی استحکام، ریگولیٹری تسلسل، ٹیکس پالیسیوں اور مجموعی کاروباری منافع جیسے عوامل پر ہوگا۔
ہائیکونکس مائیڈیا گروپ کے تحت کام کرتی ہے جو چین کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس کمپنیوں میں سے ایک ہے اور جس کی سالانہ آمدن 50 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ یہ کمپنی قابلِ تجدید توانائی کے حل (رینیو ایبل انرجی سلوشنز) میں مہارت رکھتی ہے جن میں گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے سولر انورٹرز، بیٹری اسٹوریج سسٹمز، ویری ایبل فریکوئنسی ڈرائیوز اور اسمارٹ انرجی مینجمنٹ ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
ایگزیکٹو نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، لوڈشیڈنگ اور توانائی میں خودکفالت کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان عالمی سطح پر انرجی ٹرانزیشن کی ایک مضبوط مثال کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کا زیادہ رجحان یوٹیلیٹی اسکیل (بڑے سرکاری یا نجی بجلی گھروں) کے منصوبوں کی طرف تھا، تاہم اب صارفین ڈی سینٹرلائزڈ سسٹمز، ہائبرڈ سسٹمز اور بیٹری اسٹوریج کی جانب تیزی سے منتقل ہورہے ہیں۔
شین نے مزید کہا کہ بیٹریوں کا استعمال ایک عالمی رجحان بن چکا ہے جو صارفین کو توانائی کے حوالے سے حقیقی معنوں میں خودمختار بنارہا ہے۔
ایگزیکٹو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات سے پیدا ہونے والی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور تیل و گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے قابلِ تجدید توانائی کو اپنانے کی ضرورت کو مزید اجاگر کردیا ہے۔
رینیو ایبل انرجی بزنس کے نقطہ نظر سے میرا خیال ہے کہ یہ صورتحال یقیناً اس منتقلی کے عمل کو تیز کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ صارفین تیزی سے بیٹری ہائبرڈ سلوشنز کی طرف رجوع کر رہے ہیں کیونکہ انہیں مستقبل قریب میں توانائی کی فراہمی میں تعطل کا خدشہ ہے جس کے باعث نئے حل اپنانے کا عمل مزید تیز ہو رہا ہے۔
ایگزیکٹو نے پاکستان جیسی مارکیٹوں میں انٹیلی جنٹ انرجی سسٹمز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مبنی توانائی کے انتظام کے حل کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اب مزید اہم اور ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔
ایگزیکٹو نے مزید کہا کہ پاکستان میں مستقبل کی کسی بھی توسیع میں مقامی روزگار، تکنیکی تربیت اور نالج ٹرانسفر کو ترجیح دی جائے گی تاکہ ملک میں رینیو ایبل انرجی کا ایک پائیدار نظام بنانے میں مدد مل سکے۔


Comments