قواعد و ضوابط کا بگاڑ
- بجلی کا شعبہ مداخلت کی کمی نہیں بلکہ مربوط ضابطہ کاری کی کمی کا شکار ہے
نیپرا کا یہ موقف کہ آمدن کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے، ایک فوری سوال پیدا کرتا ہے کہ ریگولیٹر اس نتیجے پر اب کیوں پہنچا ہے جبکہ یہ عمل ملک کے کئی حصوں میں 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کا باعث بن چکا ہے؟ مسئلہ اس موقف کی درستی کا نہیں ہے، بجلی کی فراہمی کو وصولی کی شرح سے جوڑنا یقیناً سنگین قانونی اور آئینی سوالات اٹھاتا ہے۔ اصل مسئلہ وقت، تسلسل اور توجہ کا ہے۔
بجلی کا شعبہ مداخلتوں کی کمی نہیں بلکہ مربوط ضابطہ کاری کی کمی کا شکار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب غیر یقینی توانائی کی فراہمی کی وجہ سے صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری پہلے ہی دباؤ میں ہے، ریگولیٹر مستقبل کی نگرانی کے بجائے ادارہ جاتی تنازعات اور ماضی کے فیصلوں کی وضاحتوں میں الجھا ہوا نظر آتا ہے۔
تضاد بالکل واضح ہے۔ ایک طرف نیپرا نے سخت موقف اپنایا ہے کہ واجبات کی وصولی کی بنیاد پر لوڈ مینجمنٹ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری طرف بجلی کا پورا نظام ان علاقوں میں نقصانات کو روکنے کے لیے انہی طریقوں پر منحصر ہے جہاں بجلی چوری زیادہ اور وصولی کم ہے۔ پاور ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کو ختم کرنے سے گردشی قرضوں میں 500 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک قابلِ عمل متبادل کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔
ریگولیٹر کا اصل کردار اسی قسم کے خلا کو پُر کرنا ہوتا ہے۔ کسی رائج عمل کو غیر قانونی قرار دینا اور ساتھ ہی کوئی قابلِ نفاذ متبادل فریم ورک فراہم نہ کرنا، نظام کو معلق کر دیتا ہے۔ اس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) مالی خطرات کا شکار رہتی ہیں، گردشی قرضے بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے اور صارفین بجلی کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار رہتے ہیں۔ قانونی پوزیشن تو واضح ہو سکتی ہے لیکن آپریشنل حقیقت اب بھی حل طلب ہے۔
ہم آہنگی کی یہ کمی صرف لوڈ مینجمنٹ تک محدود نہیں ہے۔ نیپرا اور ’انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے درمیان انٹیگریٹڈ سسٹم پلان پر جاری اختلاف اس کی ایک اور مثال ہے۔ منصوبوں کی شمولیت، طلب کے تخمینوں اور ریگولیٹری تعمیل پر اختلافات نے ایک تکنیکی مشق کو ادارہ جاتی محاذ آرائی میں بدل دیا ہے۔ دونوں فریق اپنے مینڈیٹ کے اندر کام کر رہے ہیں لیکن اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے ان فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے جو اس شعبے کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
منصوبہ بندی میں غیر یقینی کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن کی توسیع اور سرمایہ کاری کے فیصلے واضح اور مستقل تخمینوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ جب مختلف اداروں کے درمیان طلب کے تخمینے مختلف ہوں تو نظام اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ سرمایہ کار اس غیر یقینی کا جواب اپنے وعدوں میں تاخیر، اخراجات میں اضافے یا مکمل دستبرداری کی صورت میں دیتے ہیں۔
اس کا وسیع تر نتیجہ یہ ہے کہ ریگولیٹر کی توانائی نتائج کو بہتر بنانے کے بجائے طریقہ کار کے تنازعات میں ضائع ہو رہی ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر کو اسٹرکچرل چیلنجز کا سامنا ہے، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے زیادہ نقصانات، وصولی کا کمزور نظام، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار اور نصب شدہ صلاحیت اور اصل فراہمی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق۔ یہ وہ مسائل ہین جن کے لیے مسلسل ریگولیٹری توجہ، تکنیکی مہارت اور مربوط پالیسی سمت کی ضرورت ہے۔
موجودہ صورتحال بکھراؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔ منصوبوں کی حیثیت پر تنازعات اور منصوبہ بندی کے معیار میں بار بار تبدیلیاں یہ تاثر دیتی ہیں کہ نظام اپنی سمت متعین کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ توانائی ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ صنعتی پیداوار، برآمدی مسابقت اور سرمایہ کاری کا بہاؤ براہِ راست بجلی کی قیمت اور اس کی تسلسل سے فراہمی سے جڑا ہوا ہے۔
آمدن کی بنیاد پر لوڈشیڈنگ کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنے میں تاخیر اس بے سمتی کی علامت ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے صرف قانونی فیصلے سے زیادہ کچھ درکار ہے۔ اس کے لیے ڈسکوز کی اصلاح، وصولی کے طریقہ کار میں بہتری، کمزور صارفین کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی اور بجلی کی فراہمی منقطع کیے بغیر نقصانات کم کرنے کے ایک معتبر منصوبے کی ضرورت ہے۔
ضابطہ کاری(ریگولیشن) کا جوہر وضاحت، تسلسل اور احتساب ہے۔ جب یہ عناصر کمزور پڑتے ہیں تو پورا نظام دباؤ محسوس کرتا ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں پالیسی دستاویزات یا ادارہ جاتی ڈھانچوں کی کمی نہیں، بلکہ ہم آہنگی کی کمی ہے۔
اس ہم آہنگی کو بحال کرنے میں نیپرا کا کردار مرکزی ہے۔ اسے ردِ عمل ظاہر کرنے والی پوزیشنز کے بجائے ایک ایسا مربوط ریگولیٹری ماحول بنانے پر توجہ دینی چاہیے جو اس شعبے کی بنیادی کمزوریوں کو دور کر سکے۔ اس تبدیلی کے بغیر تنازعات اور تاخیر کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کی قیمت صارفین، صنعت اور وسیع تر معیشت کو چکانی پڑے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments