مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کی بڑھتی امیدیں، ڈالر دباؤ کا شکار
- جاپان کی جانب سے ین کی حمایت میں مداخلت دوبارہ شروع ہونے سے سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں ممکنہ کشیدگی میں کمی کی امیدوں کے باعث جمعرات کو امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا، جبکہ تیل سے منسلک کرنسیوں کو سہارا ملا۔ دوسری جانب جاپان کی جانب سے ین کی حمایت میں مداخلت دوبارہ شروع ہونے سے سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔
ایران نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ امریکی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کے تحت جنگ کے باضابطہ خاتمے کی بات کی گئی ہے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام کی معطلی اور آبنائے ہرمز کھولنے جیسے اہم امریکی مطالبات تاحال حل طلب ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز شپنگ کے لیے نہ کھولی گئی تو تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ ابتدائی ٹریڈنگ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
آر بی سی کیپیٹل مارکیٹس کی عالمی کموڈیٹی اسٹریٹجی سربراہ ہیلیما کرافٹ نے کہا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے کوئی حقیقی پیش رفت ہوئی ہے یا دنیا محض جنگ بندی مگر تیل کے بغیر جیسی صورتحال میں پھنسی ہوئی ہے۔
ادھر کشیدگی میں کمی کی امید نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو نیچے لایا، جس سے مہنگائی کے خدشات کم ہوئے اور امریکی بانڈ ییلڈز میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ڈالر انڈیکس 97.950 تک گر گیا، جو گزشتہ ہفتے کی بلند سطح 99.092 سے کافی کم ہے۔
یورو 0.1 فیصد مضبوط ہو کر 1.1757 ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ جاپانی ین کو اس قیاس آرائی سے مزید تقویت ملی کہ جاپانی حکام نے بدھ کو کرنسی خرید کر مداخلت کی۔
ڈالر ایک موقع پر 155 ین تک گر گیا تھا، تاہم بعد میں 156.15 ین پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا۔ جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارتکار اتسوشی میمورا نے کہا کہ جاپان مداخلت کے معاملے میں کسی پابندی کا شکار نہیں۔
ذرائع کے مطابق جاپانی حکام نے گزشتہ ہفتے تقریباً 35 ارب ڈالر فروخت کر کے ین کو سہارا دیا تھا۔


Comments