بھارت میں پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی اجازت، دوطرفہ سیریز بدستور بند
- کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنایا جائے گا، نئی دہلی
بھارتی وزارتِ کھیل نے کہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں اور ٹیموں کو بھارت میں منعقد ہونے والے کثیرالملکی (ملٹی لیٹرل) مقابلوں میں شرکت کی اجازت ہوگی، تاہم دوطرفہ سیریز بدستور ممکن نہیں ہوں گی۔
بھارت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنایا جائے گا جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کی تنظیموں کے عہدیداروں کو ملٹی انٹری ویزے جاری کیے جائیں گے۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اور کثیرالملکی مقابلوں کے حوالے سے، چاہے وہ بھارت میں ہوں یا بیرونِ ملک، ہم بین الاقوامی کھیلوں کے اداروں کی پالیسیوں اور اپنے کھلاڑیوں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ عالمی کھیلوں کی میزبانی کے لیے ایک قابلِ اعتماد مقام کے طور پر بھارت کا ابھرتا ہوا کردار بھی پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔
بھارت 2030 میں کامن ویلتھ گیمز کی میزبانی کرنے جا رہا ہے جبکہ اس نے 2036 کے اولمپکس اور 2038 کے ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کے لیے بھی احمد آباد کیلئے باضابطہ بولی دے رکھی ہے۔
گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ صورتحال تقریباً مکمل جنگ میں تبدیل ہونے کے قریب پہنچ گئی تھی۔
ایٹمی صلاحیت کے حامل ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دوطرفہ کرکٹ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے، اور 2012-13 کے بعد سے کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی گئی۔ اب دونوں ٹیمیں زیادہ تر نیوٹرل وینیوز پر ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔
اگرچہ رواں سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی بھارت نے بھی کی، تاہم پاکستان نے اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے—جن میں بھارت کے خلاف گروپ میچ بھی شامل تھا۔
وزارت نے مزید واضح کیا کہ ”جہاں تک ایک دوسرے کے ملک میں دوطرفہ کھیلوں کے مقابلوں کا تعلق ہے، بھارتی ٹیمیں پاکستان میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت نہیں کریں گی، اور نہ ہی پاکستانی ٹیموں کو بھارت میں کھیلنے کی اجازت دی جائے گی۔“


Comments