خیبر پختونخوا کے آٹا مل مالکان کی پنجاب سے گندم سپلائی کی بندش پر احتجاج کی دھمکی
- اگر پابندی کو فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو خیبر پختونخوا میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے، آٹا مل مالکان
خیبر پختونخوا کے آٹا مل مالکان نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد غیر آئینی پابندی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
مل مالکان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی آئین کے آرٹیکل 151 کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اگر اسے فوری طور پر ختم نہ کیا گیا تو خیبر پختونخوا میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ سے نئی فصل آ چکی ہے اور گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ہر سال انہی دنوں میں پنجاب کی اوپن مارکیٹ سے کم نرخوں پر گندم خریدی جاتی رہی ہے، لیکن اس بار وافر مقدار میں دستیابی کے باوجود پنجاب نے عملاً خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی پر پابندی عائد کر دی ہے، جو مکمل طور پر غیر آئینی اقدام ہے۔
یہ خدشات پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے اجلاس میں سامنے آئے، جس کی صدارت چیئرمین نعیم بٹ نے ہفتہ کے روز کی۔ اجلاس میں مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے عہدیداران اور سینئر رہنما بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب سے گندم کی ترسیل پر پابندی ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، کیونکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب میں غیر قانونی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں جہاں گندم سے لدی گاڑیوں کو خیبر پختونخوا میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے، جسے بھتہ خوری قرار دیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ رشوت نہ دینے کی صورت میں مقدمات درج کیے جاتے ہیں، گندم اتار لی جاتی ہے اور گاڑیوں کو سرکاری گوداموں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اجلاس نے کہا کہ موجودہ صورتحال آٹا مل صنعت اور خیبر پختونخوا کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور اس غیر قانونی اور غیر منصفانہ پابندی کو ختم کرائیں۔
اجلاس نے خبردار کیا کہ اگر پنجاب حکومت نے یہی رویہ جاری رکھا تو آٹے کی فراہمی متاثر ہوگی، قیمتیں بڑھیں گی اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مل مالکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر گندم کی ترسیل فوری بحال نہ ہوئی تو آٹا ملیں بند ہو سکتی ہیں اور سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو مل مالکان سخت احتجاج، ہڑتال اور غیر معینہ مدت کے لیے اپنی ملیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments