BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Decreased By (-0.15%)
KSE100 Increased By (0.16%)
KSE30 Increased By (0.1%)
BAFL 56.90 Decreased By ▼ -0.30 (-0.52%)
BIPL 27.09 Increased By ▲ 0.20 (0.74%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.97 Decreased By ▼ -0.64 (-6.03%)
DFML 18.15 Increased By ▲ 0.10 (0.55%)
DGKC 206.80 Decreased By ▼ -3.10 (-1.48%)
FABL 100.65 Increased By ▲ 1.70 (1.72%)
FCCL 54.70 Increased By ▲ 0.96 (1.79%)
FFL 16.67 Increased By ▲ 0.21 (1.28%)
GGL 24.90 Increased By ▲ 1.08 (4.53%)
HBL 303.00 Increased By ▲ 0.58 (0.19%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 0.95 (0.43%)
HUMNL 10.49 Decreased By ▼ -0.05 (-0.47%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.29 Decreased By ▼ -0.36 (-1.21%)
MLCF 94.60 Decreased By ▼ -1.76 (-1.83%)
OGDC 316.50 Decreased By ▼ -1.72 (-0.54%)
PAEL 43.25 Increased By ▲ 1.48 (3.54%)
PIBTL 16.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.36%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.75 Increased By ▲ 0.70 (1.43%)
SNGP 105.10 Decreased By ▼ -1.03 (-0.97%)
SSGC 28.29 Decreased By ▼ -0.85 (-2.92%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.03 (0.34%)
TPLP 13.13 Increased By ▲ 0.62 (4.96%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.41 Increased By ▲ 0.39 (3.89%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
کاروبار اور معیشت

مالیاتی سختی سے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، ایس ایم تنویز

  • شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس اضافے کی شدید مذمت
شائع اپ ڈیٹ

یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سینئر رہنما ایس ایم تنویر نے سود کی شرح میں 100 بیسز پوائنٹس اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باوجود عالمی سطح پر اس قدر زبردست اضافہ کہیں نہیں دیکھا گیا۔

انہوں نےمتنبہ کیا کہ اس مالیاتی سختی سے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی 60 ٹریلین روپے قرضے کے موجودہ حجم کے تناظر میں شرح سود میں محض ایک فیصد اضافے سے حکومت کو شرح سود کی مد میں اضافی 600 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے۔

انہوں نے مزید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مارک اپ کی ان ممنوعہ شرح کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور کیا جارہا ہے جو کہ کاروبار کرنے کی لاگت کےساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کررہی ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حد سے زیادہ شرح سود اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا دوہرا دباؤ صنعتی ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بند صنعتی یونٹس میں واضح اضافہ ہو رہاہے۔

انہوں نے مانیٹری پالیسی میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینےکا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید ڈی انڈسٹریلائزیشن کو روکا جا سکےاور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنےکے لیے ضروری سانس لینے کا موقع مل سکے۔

Comments

200 حروف