مالیاتی سختی سے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، ایس ایم تنویز
- شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس اضافے کی شدید مذمت
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور ایف پی سی سی آئی کے سینئر رہنما ایس ایم تنویر نے سود کی شرح میں 100 بیسز پوائنٹس اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے رجحان کے باوجود عالمی سطح پر اس قدر زبردست اضافہ کہیں نہیں دیکھا گیا۔
انہوں نےمتنبہ کیا کہ اس مالیاتی سختی سے قومی خزانے پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی 60 ٹریلین روپے قرضے کے موجودہ حجم کے تناظر میں شرح سود میں محض ایک فیصد اضافے سے حکومت کو شرح سود کی مد میں اضافی 600 ارب روپے ادا کرنے ہوں گے۔
انہوں نے مزید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مارک اپ کی ان ممنوعہ شرح کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور کیا جارہا ہے جو کہ کاروبار کرنے کی لاگت کےساتھ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کررہی ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حد سے زیادہ شرح سود اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کا دوہرا دباؤ صنعتی ترقی کو خطرے میں ڈال رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بند صنعتی یونٹس میں واضح اضافہ ہو رہاہے۔
انہوں نے مانیٹری پالیسی میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینےکا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید ڈی انڈسٹریلائزیشن کو روکا جا سکےاور نجی شعبے کو معاشی سرگرمیوں کو برقرار رکھنےکے لیے ضروری سانس لینے کا موقع مل سکے۔


Comments