دو سالہ تاخیر کے بعد 35 جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کی منظوری
- نوٹیفکیشن کا اجرا رواں ہفتے متوقع، پی پی ایم اے، مزید 45 ادویات اب بھی حکومت کے گرین سگنل کی منتظر ہیں
حکومت نے طویل انتظار کے بعد 35 نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کی حتمی منظوری دے دی ہے، جس سے پاکستان میں کینسر، امراضِ قلب، ٹائیفائیڈ اور مختلف ویکسینز سمیت جدید ضروری ادویات کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی۔ پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے مطابق اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن رواں ہفتے متوقع ہے۔
پی پی ایم اے کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا اور کابینہ سمیت وزیراعظم شہباز شریف کو ان ادویات کی فوری دستیابی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے بلکہ مریضوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ اس فیصلے سے ان اہم علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی ممکن ہو سکے گی جو طویل عرصے سے قیمتوں کے تعین نہ ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھیں، جس کے باعث مریض غیر منظم اور مہنگی اسمگل شدہ ادویات کے استعمال پر مجبور تھے۔
صنعت کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ان ادویات کی قیمتوں کی منظوری گزشتہ دو سال سے التوا کا شکار تھی۔ اگرچہ 35 ادویات کی منظوری دے دی گئی ہے، تاہم اب بھی 45 کے قریب مزید ادویات گرین سگنل کی منتظر ہیں، جن کے بارے میں توقع ہے کہ وفاقی کابینہ جلد فیصلہ کرے گی۔ سابق چیئرمین توقیر الحق کا کہنا ہے کہ ان ادویات کی دستیابی سے سب سے بڑا فائدہ مریضوں کو ہوگا جنہیں اب کینسر اور دل کے امراض کے لیے سستا اور جدید علاج میسر آئے گا، کیونکہ پہلے یہی ادویات 10 گنا زائد قیمت پر درآمد کرنا پڑتی تھیں۔ ان ادویات میں ٹائیفائیڈ، پولیو اور نموکوکل کی ویکسینز کے علاوہ ربیز امیونوگلوبلین اور سیماگلوٹائڈ جیسی اہم تھراپیز بھی شامل ہیں۔


Comments