پاکستانی نوجوان کا کمال، ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر خریدنے کے لیے 60 ارب ڈالر کی پیشکش کر دی
- ایلون مسک پاکستانی ٹیلنٹ کے دیوانے، اسپیس ایکس اور اے آئی اسٹارٹ اپ کرسر کے درمیان 60 ارب ڈالر کے معاہدے کا امکان
اسپیس ایکس نے کوڈ جنریشن اسٹارٹ اپ کرسر کو خریدنے کا آپشن حاصل کر لیا ہے، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد صالح آصف ہیں۔ اس سودے کے تحت اسپیس ایکس رواں سال کے آخر تک یا تو 60 ارب ڈالر کے عوض اس اے آئی اسٹارٹ اپ کو مکمل طور پر خرید لے گا یا پھر نئی شراکت داری کے تحت 10 ارب ڈالر ادا کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد اے آئی ڈویلپر ٹولز کی منافع بخش مارکیٹ میں اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی طرح کرسر بھی سلیکون ویلی کے ان چند اسٹارٹ اپس میں شامل ہے جس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے کوڈنگ کو خودکار بنا کر ڈویلپرز کی بڑی توجہ حاصل کی ہے۔ اس ڈیل سے ایکس اے آئی کو، جو فروری میں اسپیس ایکس کے ساتھ ضم ہو چکا ہے، اے آئی کوڈنگ کی مارکیٹ میں اپنے حریفوں کے مقابلے میں برتری حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب کرسر کو اپنے اے آئی ماڈلز تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کی طاقت میسر آئے گی۔
اسپیس ایکس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرایک پوسٹ میں کہا کہ کرسر کی بہترین پروڈکٹ اور ماہر سافٹ ویئر انجینئرز تک اس کی رسائی کو اسپیس ایکس کے کولوسس ٹریننگ سپر کمپیوٹر کے ساتھ ملا کر ہم دنیا کے مفید ترین ماڈلز تیار کریں گے۔
واضح رہے کہ کولوسس میمفس میں واقع اے آئی ایکس کا سپر کمپیوٹر کلسٹر ہے، جسے دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر قرار دیا جاتا ہے۔
فوربس کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والے صالح آصف نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے تین دوستوں کے ساتھ مل کر کرسر کی بنیاد رکھی۔ صالح آصف 2016 سے 2018 تک بین الاقوامی ریاضی اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرسر نے نومبر 2025 میں 2.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد 29.3 ارب ڈالر کی مالیت کا سنگ میل عبور کر لیا تھا۔ اسٹارٹ اپ کا دعویٰ ہے کہ اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے جمعرات کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ یہ پاکستان کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے اور ہمارے نوجوانوں کے لیے اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ان کی کامیابی کی کوئی حد نہیں۔
بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیلنٹ کبھی بھی پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ مسئلہ مقامی سطح پر ایسے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) کی کمی ہے جو اس ٹیلنٹ کو سپورٹ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ صالح آصف کی کہانی ہر نوجوان پاکستانی میں دو چیزیں پیدا کرے گی ، پہلی بے پناہ فخر اور دوسری کچھ کر دکھانے کا پختہ یقین ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ذہین اذہان کی کوئی کمی نہیں، صرف سازگار حالات کی ضرورت ہے۔ درست پالیسی، سرمایہ کاری اور ایسی قیادت جو نوجوانوں کو سب سے بڑا اثاثہ سمجھے جو اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر سکتی ہے۔
دوسری جانب یہ اعلان اسپیس ایکس کی اسٹاک مارکیٹ میں متوقع آمد سے قبل سامنے آیا ہے۔ کمپنی 1.75 ٹریلین ڈالر کی مالیت کے ساتھ 75 ارب ڈالر کا فنڈ جمع کرنے کا ہدف رکھتی ہے، جو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او ثابت ہو سکتا ہے۔
قبل ازیں مارچ میں کرسر کے دو پروڈکٹ انجینئرنگ سربراہان نے اسپیس ایکس کے قمری منصوبوں اور ایکس اے آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ایلون مسک نے ان انجینئرز، اینڈریو ملیچ اور جیسن گنزبرگ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ چاند پر مداری خلائی مراکز اور ’ماس ڈرائیورز‘ کی تعمیر حیرت انگیز ہوگی۔


Comments