برطرفی اور اعتماد کے بحران کے تضاد سے نبرد آزما ہونا
- کمپنی کا سب سے قیمتی اثاثہ چمکدار دفاتر یا مشینیں نہیں بلکہ اس کے ساتھ وابستہ اعتماد ہے
- ملازمین کا اعتماد سب سے اہم عنصر ہے جو وفاداری اور وابستگی کو جنم دیتا ہے
آپ نے کمپنی میں تین دہائیوں تک کام کیا۔ ایک صبح، چھ بجے آنکھ کھلتی ہے۔ آپ کافی تیار کرتے ہیں اور ذہنی طور پر دن کے کاموں اور میٹنگز کی فہرست بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ کمپیوٹر لاگ اِن کرتے ہیں تو ایک نئی ای میل موصول ہوتی ہے۔ آپ کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ بس اتنا ہی۔ وہی ایک معیاری پیغام جو 30 ہزار افراد کو بھیجا گیا: ”موجودہ کاروباری ضروریات کا بغور جائزہ لینے کے بعد، ہم نے تنظیمی تبدیلیوں کے تحت آپ کی اسامی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔“
یہ کیسا لگتا ہے؟ یہ کیسا دکھائی دیتا ہے؟ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟ یہ ایک قانونی طور پر جانچا گیا ای میل ہوتا ہے۔ ہر کمپنی کو ایسے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث کمپنیاں مشکلات کا شکار ہوتی ہیں۔ انہیں اپنے مالی نتائج ( باٹم لائن ) کو دیکھنا پڑتا ہے۔ کمپنیاں فلاحی ادارے نہیں ہوتیں۔ یہ تمام نکات اپنی جگہ درست ہیں۔
لیکن اس کے باوجود، یہ ملازمین کوئی اے آئی ایجنٹس نہیں جنہیں ایک کلک سے بند کر دیا جائے؛ یہ انسان ہیں۔ ای میل میں استعمال ہونے والا جملہ ”آپ کی اسامی ختم کی جا رہی ہے“ کچھ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کمپیوٹر پر غیر ضروری سافٹ ویئر کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے ” ڈیلیٹ“ کا بٹن دبایا جا رہا ہو۔
کارپوریٹ دنیا، خصوصاً ملٹی نیشنل کمپنیوں کی دنیا، ایک تضاد کا شکار ہو چکی ہے۔ صدیوں سے ہم ان کے طریقۂ کار اور بہترین عملی نمونوں کو دیکھتے اور سیکھتے آئے ہیں۔ ان کا بزنس ماڈل ترقی اور کامیابی کی علامت رہا ہے۔ ان کی پالیسیوں نے کیس اسٹڈیز کو جنم دیا۔ ان کے طریقۂ کار رہنمائی کا راستہ بنے۔ قیادت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ پر ان کی تحقیق نے ہمیشہ انسان کو فیصلوں کا مرکز قرار دیا۔
اسی لیے موجودہ ہنگامی صورتحال میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس نے انسان دوستی کے تمام دعوؤں کو کھوکھلا بنا دیا ہے۔ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں حالیہ برطرفیوں کے سلسلے نے بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ اسے جنگ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، کچھ اسے اے آئی سے جوڑتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ محض منافع بڑھانے کا بہانہ ہے۔ وجہ جو بھی ہو، اس سے منفی قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ اگرچہ کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس راستے پر نہیں چل رہیں، مجموعی طور پر یہ رجحان معروف برانڈز کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اچانک برطرفیوں کے اثرات کسی بھی مضبوط تنظیمی کلچر کو ہلا کر رکھ سکتے ہیں۔ آئیے ایسے اقدامات کے چند منفی اثرات پر نظر ڈالیں:
برطرفیوں کا پہلا اثر: فوری ردِعمل
وہ دن گزر گئے جب کمپنیاں معمولی ردِعمل کے ساتھ ملازمین کو برطرف کر دیتی تھیں۔ اس وقت کبھی کبھار کوئی ملازم عدالت کا رخ کرتا، برانڈ کی ساکھ پر ہلکی سی ضرب پڑتی اور وقت کے ساتھ معاملہ دب جاتا تھا۔
اب یہ ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر آواز کو پلیٹ فارم میسر ہے۔ انسٹاگرام پر ملازمین کا فوری ردِعمل انتہائی اثر انگیز ثابت ہوتا ہے۔ جن ملازمین کو اچانک برطرف کیا جاتا ہے، وہ لمحوں میں ”اپ لوڈ ان سیکنڈز“ کے رجحان کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ بولتے ہیں، اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، دھمکیاں دیتے ہیں، دوسروں کو بھی اسی راستے پر آنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
جلد ہی الگورتھمز متحرک ہو جاتے ہیں۔ ایک ویڈیو دیکھنے والے کو متعدد فیڈز پر اسی نوعیت کی ویڈیوز کی بھرمار نظر آنے لگتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ تلخ یا شدید کچھ نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ معاملہ وائرل ہو کر انفلوئنسرز کو تبصرہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ان تبصروں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، اور ان تجزیاتی ویڈیوز پر ہر کوئی ردِعمل دینا شروع کر دیتا ہے۔
اس طرح ایک واقعے کی عمر سوشل میڈیا کی وائرلٹی کے باعث طویل ہو جاتی ہے،اور یہ سلسلہ مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
برطرفیوں کا دوسرا اثر: ساکھ کو نقصان
ایسے حالات میں جب سوشل میڈیا پر شور تھمنے کا نام نہ لے، کمپنی شدید دباؤ میں آ جاتی ہے۔ ماضی میں وقت ایک بڑا مٹانے والا عنصر ہوتا تھا۔ کمپنیاں اشتہاری اخراجات کے ذریعے میڈیا کو متاثر کر کے اپنی ساکھ سنبھال لیتی تھیں اور عوامی رابطے( پی آر) مہمات چلا کر بیانیہ کنٹرول کر لیتی تھیں، اب ایسا نہیں رہا۔
اب سوشل میڈیا مواد اور اس کے خالق دونوں پر حاوی ہے۔ کوئی بھی سنسنی خیز اور اشتعال انگیز مواد بے قابو ہو جاتا ہے۔ دنوں تک جاری رہنے والی قیاس آرائیوں کے دوران کمپنی اپنی بات سامنے لانے کی کوشش تو کرتی ہے، مگر عموماً یہ کوششیں الٹا اثر ڈالتی ہیں۔
اکثر کمپنیاں بظاہر غیر جانبدار تجزیہ کاروں کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرواتی ہیں، اور ایسے مباحث ترتیب دیتی ہیں جہاں نام نہاد عوامی نمائندے بھی ان کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس سے معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے۔ لوگ ایسے پروگراموں کو ”پیسے کے عوض ڈرامے بازی“ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جس سے منفی تشہیر میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
برطرفیوں کا تیسرا اثر: زہریلا ماحول
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ شور کب تھمے گا، بلکہ یہ ہے کہ اس سے پیدا ہونے والی زہریلی فضا کو ختم ہونے میں کتنا وقت لگے گا، خاص طور پر ان ملازمین کے لیے جو کمپنی میں باقی رہ جاتے ہیں۔ سب سے بڑا نقصان اعتماد کا ہوتا ہے۔
باقی رہنے والے ملازمین میں درج ذیل اثرات دیکھے جا سکتے ہیں:
الف: سروائیور سنڈروم
وہ ملازمین جو کمپنی میں رہ جاتے ہیں اکثر غیر یقینی کیفیت، احساسِ جرم اور شرمندگی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ وہ ایسی صورتحال میں بھی کمپنی کا حصہ ہیں۔
ب: خاموش استعفیٰ
ملازمین میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنے لوگوں کے ساتھ یہ ہو سکتا ہے تو وہ بھی اگلے(شکار) ہو سکتے ہیں۔ وہ متبادل مواقع تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ دفتر آتے رہتے ہیں، مگر صرف جسمانی طور پر، ذہنی اور جذباتی طور پر وہ کام چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اس سے پیداواریت اور وفاداری میں نمایاں کمی آتی ہے۔
ج: اعتماد کا فقدان
اکثر ملازمین کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی قیادت وہ نہیں جو وہ ظاہر کرتی ہے۔ وہ قیادت کی کسی بھی یقین دہانی پر اعتماد نہیں کرتے۔ ملازمین کی وابستگی میں واضح کمی آ جاتی ہے۔ دفتر کی سیاست اپنی ایک الگ زندگی اختیار کر لیتی ہے، اور کام کا دن اصل کام کے بجائے افواہوں اور چہ مگوئیوں کو فیڈ کرنے میں گزرنے لگتا ہے۔
کمپنی کا سب سے قیمتی اثاثہ چمکدار دفاتر یا مشینیں نہیں بلکہ اس کے ساتھ وابستہ اعتماد ہے۔ یہ اعتماد اندرونی اور بیرونی صارفین کے احساسات اور آرا سے تشکیل پاتا ہے۔ ملازمین کا اعتماد سب سے اہم عنصر ہے جو وفاداری اور وابستگی کو جنم دیتا ہے۔
ایسا کلچر جو بداعتمادی کو فروغ دے، وہ خوف اور غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ جب لوگ اپنے روزگار، اپنی رائے کے اظہار اور اپنے رہنماؤں کے رویے کے حوالے سے خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ کمپنی اپنی پوزیشن کھو دیتی ہے۔
نوکیا کی برطرفیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ٹوئز ”آر“ یوز کی برطرفیوں کو بھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ نوکیا جو کبھی مارکیٹ لیڈر تھا، اسی انداز میں ملازمین کو نکالنے کے بعد ابھرتے ہوئے اسمارٹ فون انقلاب کو نہ سمجھ سکا۔
غرور اکثر زوال کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی اور امیر ترین تنظیمیں بھی انسانوں سے بنتی ہیں۔ جب ادارے اپنے ملازمین کو قابلِِ استعمال اور قابلِ ترک سمجھنے لگتے ہیں تو انسانی ردِعمل جنم لیتا ہے۔ یہ ردِعمل دور رس اثرات رکھتا ہے، ایسے اثرات جو گونج کی صورت میں باقی رہتے ہیں، پھیلتے ہیں، گہرائی تک اثر ڈالتے ہیں اور آخرکار سرخیاں، آمدن اور نچلی سطح کی کارکردگی سب کو متاثر کر دیتے ہیں۔
کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026


Comments