BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-0.58%)
KSE100 Decreased By (-0.97%)
KSE30 Decreased By (-1.07%)
BAFL 56.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.19%)
BIPL 26.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.59%)
BOP 33.75 Decreased By ▼ -0.28 (-0.82%)
CNERGY 9.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.8%)
DFML 18.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.72%)
DGKC 204.93 Decreased By ▼ -1.58 (-0.77%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -0.36 (-0.36%)
FCCL 53.09 Decreased By ▼ -1.61 (-2.94%)
FFL 16.52 Decreased By ▼ -0.17 (-1.02%)
GGL 24.84 Increased By ▲ 0.05 (0.2%)
HBL 299.82 Decreased By ▼ -2.53 (-0.84%)
HUBC 217.08 Decreased By ▼ -2.30 (-1.05%)
HUMNL 10.61 Increased By ▲ 0.21 (2.02%)
KEL 7.22 Decreased By ▼ -0.18 (-2.43%)
LOTCHEM 29.31 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
MLCF 92.16 Decreased By ▼ -2.20 (-2.33%)
OGDC 316.29 Increased By ▲ 0.45 (0.14%)
PAEL 42.04 Decreased By ▼ -1.16 (-2.69%)
PIBTL 16.41 Decreased By ▼ -0.33 (-1.97%)
PIOC 300.24 Increased By ▲ 3.14 (1.06%)
PPL 216.84 Decreased By ▼ -2.94 (-1.34%)
PRL 50.86 Increased By ▲ 1.67 (3.39%)
SNGP 101.72 Decreased By ▼ -3.18 (-3.03%)
SSGC 26.98 Decreased By ▼ -1.27 (-4.5%)
TELE 8.65 Decreased By ▼ -0.14 (-1.59%)
TPLP 13.39 Increased By ▲ 0.12 (0.9%)
TRG 59.26 Decreased By ▼ -0.88 (-1.46%)
UNITY 10.30 Decreased By ▼ -0.13 (-1.25%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.03 (-2.38%)

پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت میں روس کی وفاقی سروس برائے ویٹرنری اور فائٹو سینیٹری سرویلنس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت دے دی ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق 8 اپریل 2026 سے ہوچکا ہے۔

یہ منظوری ان فائٹو سینیٹری پابندیوں کے خاتمے کے بعد سامنے آئی ہے جو مئی 2025 سے نافذ تھیں۔ ابتدائی مرحلے میں روسی حکام نے 3 پاکستانی برآمد کنندگان کو درآمد کی اجازت دی ہے جن میں میسرز چیز انٹرنیشنل، میسرز زاہد کنو گرائنڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور میسرز نیشنل فروٹ شامل ہیں۔

ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی سربراہ شبانہ عزیز نے کہا ہے کہ مستقبل قریب میں مزید کمپنیوں کو بھی (درآمدات کے لیے) رجسٹر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹڈاپ اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) کی ٹیموں کے تعاون سے ورچوئل بی ٹو بی میٹنگز کا اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان اس ابھرتے ہوئے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

پاکستان میں اس وقت آلو کی بمپر فصل ہورہی ہے جس کی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 12 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ (روس کی) نئی منڈی تک رسائی سے زائد اسٹاک کو کھپانے، مقامی سطح پر آلو کی قیمتوں میں استحکام لانے، کسانوں کی مدد کرنے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں مدد ملے گی۔

یہ کامیابی وزارتِ خوراک، ڈی پی پی، ٹڈاپ، پی ایچ ڈی ای سی اور ماسکو میں پاکستانی تجارتی مشن کی مربوط کوششوں کی عکاس ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کی زرعی برآمدات کی منڈیوں میں تنوع لانے اور روسی فیڈریشن کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے عزم کا اظہار بھی ہے۔

رواں سال جنوری میں پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا تھا تاکہ آلو اور کنو کی برآمدات کے لیے فریٹ چارجز (مال برداری کے کرایوں) میں کمی کی جائے، بالخصوص ایران کے راستے ہونے والی برآمدات کے لیے۔ یہ اقدام کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب آلو اور کنو کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اجناس کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Comments

200 حروف