ایران جنگ سے پیدا ہونے والے اتحاد کے تناؤ کے دوران ٹرمپ کی نیٹو چیف سے ملاقات
- ٹرمپ کا خلیجی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک سے آبنائے ہرمز پر ایران کا تسلط ختم کرنے کا مطالبہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سربراہ مارک رُٹے کا استقبال کریں گے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات کو بحرانی کیفیت سے دوچار کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں نیٹو سے علیحدگی کی دھمکی دیتے ہوئے یورپی ممالک پر ایران میں امریکی و اسرائیلی بمباری مہم کی خاطر خواہ حمایت نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ٹرمپ کا مطالبہ ہے کہ خلیجی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک آبنائے ہرمز پر ایران کا تسلط ختم کرنے کے لیے آگے آئیں، تاہم یورپی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ جاری رہنے تک وہ ایسی کسی مہم کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں۔ مارک رُٹے، جو ٹرمپ کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے جانے جاتے ہیں، اس ملاقات میں بحری تجارت کی بحالی اور دفاعی اخراجات میں اضافے جیسے امور پر بات کریں گے، تاکہ ٹرمپ کو اتحاد پر عوامی تنقید سے باز رکھا جا سکے۔
نیٹو کے لیے یہ وقت انتہائی نازک ہے کیونکہ ٹرمپ اسے کاغذی شیر قرار دے چکے ہیں۔ ایران پر توجہ مرکوز ہونے سے یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد کی منتقلی کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جس نے یورپی اتحادیوں کو مزید پریشان کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ان ممالک کو یاد رکھیں گے جنہوں نے ایران کے خلاف آپریشن میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔


Comments