عالمی بینک کی جانب سے بی آئی ایس پی کو مسلسل تعاون کی یقین دہانی
- عالمی بینک کے اہم وفد اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ کے درمیان ملاقات
عالمی بینک نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو اپنے مکمل تکنیکی تعاون اور اشتراک کا یقین دلایا ہے تاکہ ادارے کے سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں عالمی بینک کے ایک اہم وفد اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ کے درمیان بی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے عالمی بینک کے ’کرائسز ریزیلئینٹ سوشل پروٹیکشن کے لیے تشکیل دیے گئے امپلی مینٹیشن سپورٹ مشن کے اس اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے شفافیت اور آپریشنل کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے نظرثانی شدہ سروے سوالناموں، اسپاٹ چیکس، پراکسی مینز ٹیسٹ (پی ایم ٹی) اور ری سرٹیفیکیشن کے عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بات اجلاس کے بعد بی آئی ایس پی کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہی گئی۔
بیان کے مطابق انہوں نے ری سرٹیفیکیشن کے عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے، مانیٹرنگ کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے اور عوامی شکایات و فیڈ بیک کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جاسکے اور یہ یقینی ہو کہ امداد صرف انتہائی مستحق خاندانوں تک پہنچے۔
عالمی بینک کے وفد کی قیادت سینئر سوشل پروٹیکشن اسپیشلسٹ اور ٹاسک ٹیم لیڈر امجد ظفر خان کر رہے تھے، جبکہ وفد میں سوشل پروٹیکشن کنسلٹنٹ گل نجم جامی اور سارہ نظامی بھی شامل تھیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مشن نے ڈسبرسمنٹ لنکڈ انڈیکیٹرز بالخصوص تعلیم، صحت اور غذائیت سے متعلق اقدامات پر اپنی رپورٹ پیش کی اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ بی آئی ایس پی نے نمایاں پیش رفت کی اور کئی اہداف کامیابی سے حاصل کرلیے گئے ہیں۔
بی آئی ایس پی کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اہم بات چیت میں کلاؤڈ بیسڈ ڈیٹا شیئرنگ، مستحقین کی سہولت پر مبنی ادائیگیوں کا ماڈل اور ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن اسکیم بھی شامل تھی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments