نوجوانوں کو بینک اکاؤنٹس کھولنے اور چلانے کی خود مختاری مل گئی
- اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نیا فریم ورک پاکستان کے مالیاتی منظرنامے میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک تاریخی فریم ورک کا آغاز کیا ہے، جو نوجوانوں کو خود مختاری کے ساتھ بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کھولنے اور چلانے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اقدام ملک کے نوجوانوں میں مالی شمولیت اور ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز اعلان کیے گئے اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو محفوظ طریقے سے بچت کرنے، اعتماد کے ساتھ لین دین کرنے، اور ابتدائی عمر سے ذمہ دار مالی عادات اپنانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق، نیا فریم ورک پاکستان کے مالیاتی منظرنامے میں طویل عرصے سے موجود خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے، جہاں اب تک نوجوان زیادہ تر مشترکہ یا والدین کے کنٹرول والے اکاؤنٹس پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ رسمی مالی خدمات میں براہِ راست حصہ نہیں لے پا رہے تھے۔
مرکزی بینک نے نوٹ کیا کہ اگرچہ پاکستان میں مجموعی اکاؤنٹ کی ملکیت بڑھی کر 67 فیصد بالغ آبادی تک پہنچ گئی ہے، ملک کے نوجوان طبقے کو اب تک مناسب خدمات فراہم نہیں ہوئیں۔ پاکستان میں 13 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 26 ملین نوجوان موجود ہیں، اور توقع ہے کہ یہ فریم ورک مالیاتی طور پر باشعور اور ڈیجیٹل مہارت رکھنے والی نئی نسل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔
نئے فریم ورک کے تحت نوجوان براہِ راست اپنے اکاؤنٹس اور والٹس کے مالک اور منتظم بن سکیں گے، جس سے مالی ذمہ داری اور خود مختاری کو فروغ ملے گا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ اقدام ایک منظم اور محفوظ ماحول میں متعارف کرایا گیا ہے تاکہ رسمی بینکنگ خدمات تک محفوظ اور منظم رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
مرکزی بینک نے مزید کہا کہ یہ فریم ورک نوجوانوں کو تجربہ اور ضروری آلات فراہم کرے گا تاکہ وہ بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر طریقے سے حصہ لے سکیں۔
اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ اقدام اس کے اسٹریٹجک پلان 2023-28 اور نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹیجی ( این ایف آئی ایس ) 2024-28 کے مطابق ہے، جو مالیاتی نظام میں نوجوانوں کی شمولیت پر زور دیتے ہیں۔
یہ فریم ورک پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر نوجوانوں کی مالی شمولیت میں پہچان کو بھی مضبوط کرتا ہے، جیسا کہ گزشتہ سال اسٹیٹ بینک کو اے ایف آئی گلوبل یوتھ فنانشل انکلوژن ایوارڈ ملا تھا۔
اسٹیٹ بینک نے اس اقدام کو محض ایک نیا بینکنگ پروڈکٹ قرار دینے کے بجائے ایک اسٹریٹجک قدم قرار دیا، جو زیادہ جامع مالیاتی نظام کی طرف اشارہ کرتا ہے اور نوجوان پاکستانیوں کی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی فراہم کردہ خدمات تک رسائی کی صلاحیت کو مضبوط کرے گا۔


Comments