وزیراعظم شہباز شریف کا پاکستان پر اعتماد کا اظہار کرنے پر برادر ممالک سے اظہارِ تشکر
- سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ جیسے برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے یہ بیان سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کے چند گھنٹے بعد اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران انہوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمنائیں اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے گرمجوش سلام پہنچایا۔
انہوں نے مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا اور مشکل حالات میں سعودی عرب کے غیر معمولی صبر و تحمل کی تعریف کی۔ امتِ مسلمہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔
ایک علیحدہ پیغام میں وزیراعظم نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان معززین سے ملاقات میں انہوں نے ان دشمنیوں کے فوری خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا جو نہ صرف ایران بلکہ کئی برادر مسلم ممالک میں جان، مال اور معیشت کے بھاری نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔
وزیراعظم نے ترکیہ اور مصر کی گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان، امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ اہم پیش رفت اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے چار ملکی مشاورتی اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔ وزرائے خارجہ نے تنازعات کی روک تھام اور علاقائی امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی واحد راستہ قرار دیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کے اختتام پر بتایا کہ تمام وزرائے خارجہ نے علاقائی صورتحال اور جنگ کے مستقل خاتمے کے طریقوں پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ اس حوالے سے چاروں ممالک کی وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جو باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گی۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یہ جنگ کسی کے حق میں نہیں اور ان چیلنجنگ حالات میں امتِ مسلمہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔ ملاقات میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے امکانات پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کی تمام مہمان وزرائے خارجہ نے بھرپور حمایت کی۔


Comments