مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے خدشات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر، ڈالر مستحکم
- کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مضبوط رجحان کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے
امریکی ڈالر پیر کے روز مجموعی طور پر مستحکم رہا اور جولائی کے بعد اپنی سب سے بڑی ماہانہ برتری کی جانب بڑھ رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ کے اثرات کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے جاپانی ین کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے، جو اہم سطح 160 فی ڈالر سے نیچے چلا گیا اور ممکنہ حکومتی مداخلت کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
مارکیٹس میں اس ماہ شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا اور آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بندش نے عالمی تیل و گیس کی ترسیل کو متاثر کیا۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں اور شرحِ سود سے متعلق عالمی توقعات بھی بدل گئیں۔
ادھر پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے ایران اور امریکا کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی امریکی زمینی کارروائی کا جواب دے گا۔
کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مضبوط رجحان کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یورو 1.1512 ڈالر پر آ گیا اور مارچ میں 2.5 فیصد کمی کی طرف جا رہا ہے، جو جولائی کے بعد اس کی بدترین کارکردگی ہے۔ برطانوی پاؤنڈ بھی معمولی تبدیلی کے ساتھ 1.32585 ڈالر پر رہا، تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 1.7 فیصد کمی متوقع ہے۔
ڈالر انڈیکس 100.14 پر رہا، جبکہ ماہرین کے مطابق جنگ کے باعث خطرے سے بچنے کی کوششیں بڑھ گئی ہیں اور سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف جا رہے ہیں۔
جاپانی ین 159.97 پر مضبوط ہوا، جبکہ اس سے پہلے یہ 160.47 تک گر گیا تھا، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ جاپانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری رہا تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ کا شکار رہے اور ماہانہ بنیاد پر نمایاں کمی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


Comments