مشرقِ وسطیٰ کا تنازع معیشت کو متاثر کر رہا ہے، میاں زاہد
- کراچی کے صنعتی شعبوں پر لاجسٹک (نقل و حمل) کے اثرات تیزی سے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، پالیسی ایڈوائزر فیڈریشن
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، میاں زاہد حسین نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران پاکستان کی معیشت، خاص طور پر کراچی کے صنعتی مرکز کو غیر معمولی نقصان پہنچارہا ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش نے نہ صرف عالمی سطح پر تیل اور گیس کی 20 فیصد سے زائد برآمدات کو خطرے میں ڈال دیا ہے، بلکہ اس کی وجہ سے خلیج تعاون کونسل کی معاشی پیش گوئیوں میں بھی بڑی کمی کرنا پڑی ہے۔
میاں زاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی شہ رگوں کا تحفظ اور علاقائی توازن برقرار رکھنا اب صرف سفارتی ترجیح نہیں رہی، بلکہ مقامی صنعتوں کی بقا کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتی شعبوں پر لاجسٹک (نقل و حمل) کے اثرات تیزی سے ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی شپنگ لائنز غیر مستحکم سمندری راستوں سے گریز کر رہی ہیں۔
میاں زاہد حسین کے مطابق، سائٹ ، کورنگی اور لانڈھی جیسے صنعتی زونز کو خالی کنٹینرز کی شدید قلت اور مال برداری کے کرایوں میں بے پناہ اضافے کا سامنا ہے۔
میاں زاہد حسین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل (ادویہ سازی) اور مینوفیکچرنگ شعبوں کے لیے ضروری خام مال کی درآمدات کراچی پورٹ ٹرسٹ اور پورٹ قاسم پر شدید تاخیر کا شکار ہیں جس سے کام میں رکاوٹ کا ایک بڑا ڈھیر پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز متاثر ہو رہے ہیں، فیکٹریوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے اور لاگتِ پیداوار آسمان سے باتیں کر رہی ہے جس سے ملک بھر میں ملازمین کی برطرفی کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
تاہم، انہوں نے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کی جانب سے دکھائی گئی فعال اور اسٹریٹجک سفارت کاری کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے حالیہ اعلیٰ سطح دورے اپنے قریبی اتحادیوں اور علاقائی امن کے لیے ملک کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments