جنگی اثرات: عالمی کرنسی مارکیٹ میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال
- ڈالر انڈیکس 98.876 پر رہا جو پیر کو چھونے والی 3 ماہ کی بلند ترین سطح سے تھوڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے
ڈالر کی قدر بدھ کو مستحکم رہی کیونکہ تاجروں نے کسی بھی بڑی پیش قدمی کے بجائے انتظار کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ وہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اگلے ممکنہ اقدامات کے منتظر ہیں جبکہ تنازع کے حل سے متعلق متضاد پیغامات نے مارکیٹ کے اعتماد کو کمزور کر رکھا ہے۔
عالمی منڈیاں اس بات پر شرط لگارہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد اس تنازع کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں توانائی کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو امریکہ اس کا جواب بیس گنا زیادہ سخت دے گا۔
ڈالر جس کی قدر میں ہفتہ بھر سے جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تیزی آئی تھی، اب تنازع کے فوری حل کی امیدوں پر اپنے حالیہ اضافے سے کچھ پیچھے ہٹا ہے، تاہم تجزیہ کار اب بھی اس جنگ کے اتنی جلدی ختم ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی سینئر کرنسی اسٹریٹیجسٹ کرسٹینا کلفٹن کا کہنا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ جنگ ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں تک چلے گی جبکہ ہم اس صورتحال میں غیر یقینی کی انتہا کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔
منگل کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر شدید حملے کیے جسے پینٹاگون اور وہاں موجود ایرانیوں نے جنگ کی اب تک کی شدید ترین فضائی بمباری قرار دیا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے نہ رکے تو وہ خلیج سے تیل کی ترسیل روک دیں گے۔
عالمی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی
مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی صورتحال نے تاجروں کو اس الجھن میں ڈال دیا کہ خطرات کا درست اندازہ کیسے لگایا جائے اور فی الحال وہ انتظار کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
پیپراسٹون کے ریسرچ ہیڈ کرس ویسٹن کا کہنا ہے کہ تاجر بڑی حد تک خاموش بیٹھے ہیں اور مزید خبروں اور واضح صورتحال کے منتظر ہیں تاکہ خطرات کا زیادہ بہتر اور مؤثر طریقے سے تعین کیا جا سکے۔
ایشیائی مارکیٹ کے ابتدائی اوقات میں یورو 1.16205 ڈالر پر ٹریڈ ہورہا تھا جو پیر کو پہنچنے والی 3 ماہ کی کم ترین سطح سے تھوڑا بہتر ہے۔
برطانوی پاؤنڈ 0.12 فیصد اضافے کے ساتھ 1.34305 ڈالر پر رہا۔ ڈالر انڈیکس 98.876 پر رہا جو پیر کو چھونے والی 3 ماہ کی بلند ترین سطح سے تھوڑی گراوٹ ظاہر کرتا ہے۔
خطرے کے عوامل سے متاثر ہونے والا آسٹریلوی ڈالر اپنی اس 4 سالہ بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا جسے اس نے منگل کو چھوا تھا اور آخری بار اس کی قیمت 0.713 ڈالر رہی۔
آسٹریلوی ڈالر کی قدر میں زیادہ تر اضافہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے ڈپٹی گورنر اینڈریو ہاؤزر کے منگل کے اس انتباہ کے بعد ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ مہنگائی کو اوپر لے جائے گا اور اگلے ہفتے ہونے والے پالیسی اجلاس میں شرحِ سود بڑھانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کرے گا۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا (سی بی اے) کی کلفٹن نے کہا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے مرکزی بینکوں کی شرحِ سود سے متعلق توقعات پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مارکیٹیں یا تو ریٹ میں کٹوتی کے بجائے اضافے کی توقعات کی طرف منتقل ہو گئی ہیں، یا پھر پہلے کے مقابلے میں کم کٹوتی کی توقع کر رہی ہیں‘۔
فیڈ فنڈز فیوچرز ٹریڈرز اب سال کے آخر تک شرحِ سود میں مجموعی طور پر 39.7 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کی توقع کر رہے ہیں، جو ان شکوک و شبہات کو ظاہر کرتا ہے کہ آیا امریکی مرکزی بینک رواں سال دوسری بار 25 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کرے گا یا نہیں۔
سرمایہ کاروں کی توجہ بدھ کو دیر گئے جاری ہونے والے فروری کے امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار پر مرکوز رہے گی۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق، ماہرینِ معاشیات کو توقع ہے کہ اس ماہ کے دوران بنیادی اشیائے صارفین کی قیمتوں میں 0.2 فیصد جبکہ مجموعی قیمتوں میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دریں اثنا، وال اسٹریٹ جنرل نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے جنگ کی وجہ سے آسمان سے باتیں کرتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے اپنی تاریخ میں تیل کے ذخائر کو سب سے بڑی مقدار میں مارکیٹ میں لانے کی تجویز دی ہے۔


Comments