نیوزی لینڈ کے کپتان سینٹنر ناقابلِ شکست جنوبی افریقہ کو روکنے کے لیے پرفیکٹ گیم کے خواہشمند
- جنوبی افریقہ ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم ہے، مسلسل سات فتوحات میں گروپ اسٹیج کے دوران نیوزی لینڈ کے خلاف 7 وکٹوں کی عبرتناک شکست بھی شامل ہے
نیوزی لینڈ کے کپتان کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم بدھ کوآئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں فارم میں موجود جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنا پہلا مکمل میچ پیش کرنا چاہتی ہے۔ یہ مقابلہ ایڈن گارڈنزمیں ہوگاجب کہ ٹیم کے ذہنوں میں پچھلی شکست کا زخم ابھی تازہ ہے۔
جنوبی افریقہ اس ٹورنامنٹ کی واحد ناقابلِ شکست ٹیم ہے اور اس کی مسلسل سات فتوحات میں گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ کے خلاف سات وکٹوں سے بڑی جیت بھی شامل ہے،اگرچہ وہ شکست اب بھی کھٹک رہی ہے۔
کپتان مچل سینٹنر نے کہا کہ اس مقابلے کی واقفیت کی وجہ سے کسی حیرت کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔
منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سینٹنر نے کہا کہ ہم نے شاید اس ٹورنامنٹ میں ابھی تک مکمل یا بہترین کھیل پیش نہیں کیا۔ میرے خیال میں یہ ہمارے لیے اچھی بات ہے۔ اگر ہم سب کچھ ایک ساتھ درست کر لیں تو ہم مضبوط پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔
میرے خیال میں جنوبی افریقہ کیا لانے والا ہے، اس بارے میں کوئی راز نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ وہ غالباً وہی ٹیم میدان میں اتاریں گے اور وہ بھی جانتے ہیں کہ ہم کیا کرنے والے ہیں۔
سپر ایٹ مرحلے کے تینوں میچ سری لنکا میں کھیلنے کے بعد نیوزی لینڈ اس بات سے محتاط ہے کہ ایڈن گارڈنز کی پچ کس طرح برتاؤ کرے گی اور وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے تیار ہیں۔
اگرچہ 2024 کے رنر اپ جنوبی افریقہ کاغذ پر زیادہ متوازن دکھائی دیتے ہیں، سینٹنر کا کہنا ہے کہ مقابلے کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ کون سی ٹیم حالات کو زیادہ تیزی سے سمجھتی اور اپناتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب پچ پر منحصر ہے اور ہم کتنی جلدی خود کو ڈھالتے ہیں،ان کے پاس تقریباً ہر شعبے میں مضبوطی ہے، اسی لیے وہ ناقابلِ شکست ہیں۔
دونوں ٹیمیں مردوں کے وائٹ بال ورلڈ کپ کا پہلا ٹائٹل جیتنے کی خواہاں ہیں اور سینٹنر نے اتوار کے فائنل تک رسائی کے لیے بھرپور کوشش کا وعدہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ دو سال پہلے جنوبی افریقہ کو کس قدر دل شکستگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، وہ اس ٹورنامنٹ میں بہت اچھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔


Comments