پاکستان کی فضائی حدود تمام سول ایوی ایشن پروازوں کے لیے کھلی ہے، پی اے اے
- متبادل فضائی راستے دستیاب، متاثرہ پروازوں کے لیے معمول کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے منگل کو واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کمرشل پروازوں سمیت تمام سول ایوی ایشن کے لیے مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہے۔
میڈیا کی ان حالیہ رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے جن میں پاکستان کی فضائی حدود کی جزوی بندش کا دعویٰ کیا گیا تھا اتھارٹی نے کہا کہ ایئر ٹریفک سروسز اور ایئرپورٹس کسی بھی قسم کی پابندی کے بغیر معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ پی اے اے نے مزید کہا کہ اس قسم کی تشریح غلط اور گمراہ کن ہے۔
ٹریفک کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ایئر ٹریفک سروسز کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہیں اور متاثرہ روٹس کے لیے متبادل راستے دستیاب ہیں جو معمول کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اتھارٹی نے اپنے موقف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھر میں کمرشل آپریشنز، پروازوں کی آمد و رفت یا فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ ہمارے ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور ایئرپورٹ ٹیمیں پوری طرح فعال ہیں اور ٹریفک کو معمول کے مطابق سنبھال رہی ہیں۔
زیرِ بحث نوٹم جسے غلط رنگ دیا گیا، اس کے بارے میں پی اے اے نے وضاحت کی کہ یہ ایک معمول کی آپریشنل ایڈوائزری ہے۔ اتھارٹی کے مطابق یہ نوٹم 3 مارچ سے 31 مارچ تک روزانہ (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک) کراچی اور لاہور فلائٹ انفارمیشن ریجنز میں مخصوص روٹس کے عارضی طور پر دستیاب نہ ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ معیاری آپریشنل وجوہات کی بنا پر ان حصوں کو زمینی سطح سے لامحدود بلندی تک بند رکھا گیا ہے۔
پی اے اے نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ صرف پی اے اے کے سرکاری بیانات پر بھروسہ اور ایسی سنسنی خیز یا غلط سرخیوں سے گریز کریں جو مسافروں اور عوام میں بلاوجہ تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔ اتھارٹی نے اعادہ کیا کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی شفافیت، حفاظت اور ہوا بازی کی خدمات کے اعلیٰ ترین معیار پر کاربند ہے۔


Comments