BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
پاکستان

پاکستان، افغان طالبان فورسز میں جھڑپیں، سفارتی کوششوں میں تیزی آگئی، رائٹرز

  • افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے سعودی شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک گفتگو میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطے جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور افغانستان کے طالبان فوجی دستوں کے درمیان لڑائی ہفتے کو تیسرے روز میں داخل ہو گئی جبکہ رات بھر جھڑپوں جاری رہیں، دوسری جانب بین الاقوامی برادری نے اس تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار اور فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حکام نے بتایا کہ جمعہ کو پاکستان کے حملوں میں طالبان کے فوجی اڈے اور چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کابل اور قندھار شامل ہیں، اور یہ برسوں میں پاکستان کا اپنے مغربی ہمسایہ میں سب سے اندر جاکر کارروائی تھی۔

اسلام آباد طالبان پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے، جن پر پاکستان کے اندر بغاوت کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جسے طالبان مسترد کرتے ہیں۔

پاکستان نے اپنے اقدامات کو سرحد پار حملوں کے جواب میں جواز قرار دیا ہے، جبکہ کابل نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے، اور کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن خبردار کیا کہ کوئی بھی وسیع تنازع سنگین نتائج کا باعث بنے گا۔

لڑائی سے 2,600 کلومیٹر (1,615 میل) طویل پہاڑی سرحد کے ساتھ طویل المدتی تنازع کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

جمعہ کی رات دیر گئے سفارتی کوششوں میں اس وقت تیزی آئی جب افغانستان نے کہا کہ اس کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے سعودی عرب کے شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے، تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی چینلز کھلے رکھے جائیں۔

یورپی یونین نے دونوں فریقوں سے کشیدگی کم کرنے اور بات چیت شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ اقوام متحدہ نے فوراً جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

روس نے دونوں فریقوں سے جھڑپیں روک کر بات چیت کی طرف واپس جانے کا مطالبہ کیا، جبکہ چین نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش کی۔

امریکہ نے طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کی، جیسا کہ محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا۔

ایک امریکی اہلکار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ واشنگٹن پاکستان کو تازہ کشیدگی میں جارح نہیں سمجھتا اور اسلام آباد اپنی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے دباؤ میں ہے، اور امید ظاہر کی کہ صورتحال مزید بگڑے گی نہیں۔

سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، اور رات بھر بار بار فائرنگ کے تبادلے ہوتے رہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ”ہمارے صبر کا پیالہ لبریزہوگیا ہے“ اور انہوں نے اس لڑائی کو ”کھلی جنگ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

رائٹرز کے مطابق پاکستان کی فوجی صلاحیتیں افغانستان سے کہیں زیادہ ہیں، جس میں لاکھوں اہلکاروں کی مستقل فوج اور جدید فضائیہ شامل ہے۔

اس کے برعکس، رپورٹ میں بتایا گیا کہ طالبان حکومت کے پاس روایتی فضائیہ نہیں ہے اور وہ زیادہ تر ہلکے ہتھیاروں اور زمینی دستوں پر انحصار کرتی ہے۔

Comments

200 حروف