پاک افغان سرحدی جھڑپوں پر عالمی برادری کا ضبط و تحمل کا مطالبہ
- آپریشن غضب الحق کے دوران پاکستانی افواج کی کارروائی میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے بعد روس، چین اور ایران سمیت متعدد ممالک نے دونوں پڑوسیوں پر ضبط و تحمل برتنے پر زور دیا ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ریا نے وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ روس نے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار حملے فوری طور پر بند کریں اور اپنے اختلافات سفارتی ذرائع سے حل کریں۔ رائٹرز کے مطابق روس نے دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر دونوں فریقین درخواست کریں تو وہ مذاکرات میں ثالثی پر غور کر سکتا ہے۔
اسی دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود سے فون پر رابطہ کیا اور پاک افغان سرحد کی صورتحال سمیت خطے کی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے طریقوں پر بات کی۔
ایران نے بھی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جمہوریہ ایران دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم اور تعاون کو بڑھانے اور مذاکرات میں سہولت کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
مزید برآں چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ذرائع سے اس تنازع میں ثالثی کر رہا ہے اور کشیدگی میں اضافے پر اسے گہری تشویش ہے۔ ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین دونوں فریقین سے پرامن رہنے، ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے اور جلد از جلد جنگ بندی کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، تاکہ مزید خونریزی سے بچا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی وزارتِ خارجہ اور پاکستان و افغانستان میں چینی سفارت خانے اس معاملے پر متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
قطر نے بھی جھڑپوں کی مذمت کرتے ہوئے تشدد اور دہشت گردی کو مسترد کرنے کے اپنے پختہ موقف کا اعادہ کیا۔ قطری وزارتِ خارجہ نے متاثرہ خاندانوں اور پاکستانی حکومت و عوام سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سرحد پار جھڑپوں اور فضائی حملوں کے تناظر میں مذاکرات کی اپیل کی، جبکہ افغان حکام کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کے حوالے سے سخت احکامات کی بھی مذمت کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر سختی سے عمل کریں۔ اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصر رچرڈ بینیٹ نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ جمعہ کو بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی فوری اور موثر کارروائی میں افغان طالبان کے کم از کم 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ دونوں جانب سے بھاری جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، جسے پاکستان کے وزیر دفاع نے کھلی جنگ قرار دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد نے براہِ راست طالبان کی تنصیبات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔


Comments