BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 58.44 Decreased By ▼ -0.58 (-0.98%)
BIPL 25.20 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 33.99 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
CNERGY 8.11 Decreased By ▼ -0.20 (-2.41%)
DFML 20.84 Decreased By ▼ -0.18 (-0.86%)
DGKC 192.97 Decreased By ▼ -2.69 (-1.37%)
FABL 89.79 Decreased By ▼ -0.42 (-0.47%)
FCCL 52.83 Decreased By ▼ -0.17 (-0.32%)
FFL 17.95 Decreased By ▼ -0.20 (-1.1%)
GGL 18.97 Decreased By ▼ -0.17 (-0.89%)
HBL 285.50 Decreased By ▼ -2.31 (-0.8%)
HUBC 214.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.73%)
HUMNL 10.88 Decreased By ▼ -0.12 (-1.09%)
KEL 8.02 Decreased By ▼ -0.12 (-1.47%)
LOTCHEM 27.89 Decreased By ▼ -0.61 (-2.14%)
MLCF 86.51 Decreased By ▼ -1.37 (-1.56%)
OGDC 319.96 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
PAEL 39.42 Decreased By ▼ -0.65 (-1.62%)
PIBTL 16.67 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 266.06 Decreased By ▼ -1.72 (-0.64%)
PPL 228.18 Decreased By ▼ -2.19 (-0.95%)
PRL 34.68 Decreased By ▼ -0.36 (-1.03%)
SNGP 99.18 Decreased By ▼ -0.18 (-0.18%)
SSGC 26.60 Decreased By ▼ -0.37 (-1.37%)
TELE 8.28 Decreased By ▼ -0.09 (-1.08%)
TPLP 8.22 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
TRG 69.71 Decreased By ▼ -0.92 (-1.3%)
UNITY 11.67 Decreased By ▼ -0.10 (-0.85%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
رائے

جب منافع نقصان دہ بن جائے

  • محدود سوچ کاروبار کی ترقی کو محدود کر دیتی ہے
شائع February 25, 2026 اپ ڈیٹ February 25, 2026 05:20pm

نتائج اہم ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کی اہمیت ہوتی ہے۔ مارجنز اپنی زبان بولتے ہیں۔ نچلی لائن ہی بالآخر بالائی لائن بن جاتی ہے۔ مالیاتی اعداد و شمار ہی وہ سرخیاں ہیں جو بورڈ رومز کے فیصلوں پر غالب رہتی ہیں۔ یہی وہ بیانات ہیں جو کمپنی کے معاملات کی کیفیت کا تعین کرتے ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جو سہ ماہی اور سالانہ رپورٹس میں جگہ پاتے ہیں۔ یہی کمپنی کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

اسی لیے یہ تمام حکمتِ عملیوں کا نقطۂ آغاز اور اختتام بن جاتے ہیں۔ یہ بالکل درست ہے۔ لیکن اتنا ہی اہم یہ بھی ہے کہ درمیان میں کیا ہوتا ہے؟ ان سے پہلے کیا ہوتا ہے؟ اور ان کے بعد کیا ہوتا ہے؟ ایک صحت مند بیلنس شیٹ رکھنے کی یک رُخی سوچ کئی دیگر چیزوں کے توازن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ اعداد و شمار میں چھپی ہوئی یہ چیزیں چھوٹے، بے ضرر سسٹوں کی مانند ہوتی ہیں جو اگر نظرانداز کی جائیں تو کینسر کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

متعدد اداروں، خصوصاً پاکستان میں کام کرتے ہوئے یہ دیکھ کر حوصلہ افزا احساس ہوتا ہے کہ بتدریج یہ ادراک پیدا ہو رہا ہے کہ محض اکاؤنٹنٹس ہی مالیاتی بیانات کو متوازن رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ روایتی کمپنیوں کی دوسری نسل کی قیادت اب اس ضرورت سے آگاہ ہو رہی ہے کہ خصوصی فنکشنل تنظیمی ڈھانچے بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے آر اینڈ ڈی اور ایچ آر جیسے شعبوں کو کچھ اہمیت دینا شروع کر دی ہے، اگرچہ ان کی ترجیحات واقعی اسٹریٹجک ہیں یا نہیں، یہ اب بھی بحث طلب ہے۔ مغربی معیشتیں نیسڈک اور ڈاؤ جیسے اشاریوں سے چلتی ہیں۔ اسٹاک مارکیٹس معیشت کی صحت کا تعین کرتی ہیں اور سرمایہ کار انہی کی بنیاد پر اپنے فیصلے کرتے ہیں کہ کہاں سرمایہ کاری کی جائے۔

اس سب کے باوجود، اعداد و شمار کبھی بھی مکمل حقیقت بیان نہیں کرتے۔ درحقیقت، اکثر وہ حقیقت کو چھپا لیتے ہیں۔ وہ خامیوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں، فیصلوں کو متاثر کرتے ہیں اور بعض اوقات گمراہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ عددی “ونڈو ڈریسنگ” کئی تلخ حقائق کو چھپا دیتی ہے۔ یہی فرق ہے پائیدار منافع اور غیر مستحکم منافع میں۔ غیر جانچے گئے منافع فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، نقصان دہ منافع جعلی نہیں ہوتے بلکہ وہ ایسے منافع ہوتے ہیں جو کچھ اہم مگر فوری نہ سمجھے جانے والے عناصر کی قیمت پر حاصل کیے گئے ہوں۔ جب ان عناصر کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو وہ اتنے اہم ہو جاتے ہیں کہ نہ صرف منافع بلکہ کمپنی کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایسے منافع جو کمپنی کی شہرت کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کی بنیاد درج ذیل عوامل پر ہوتی ہے:

پھنسے ہوئے صارف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا— وہ صنعتیں جہاں کھلاڑی کم ہوتے ہیں عموماً صارف کے مزاج کی زیادہ پروا نہیں کرتیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ صارف کے پاس متبادل کم ہیں اور وہ واپس انہی کے پاس آئے گا۔ پاکستان کی فائیو اسٹار ہوٹل انڈسٹری اس کی ایک مثال ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں فائیو اسٹار ہوٹلوں کی تعداد محدود ہے۔ جو موجود ہیں وہ “اوسط درجے کی سروس کے ساتھ حد سے زیادہ قیمتیں” وصول کر رہے ہیں۔ صارفین ایک طرح کے پھنسے ہوئے تعلق میں ہیں— وہ غیر مطمئن ہیں مگر ان کے پاس متبادل کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہوٹلز ناخوش صارفین کے باوجود منافع “سمیٹ” رہے ہیں۔ ایسے منافع “نقصان دہ” ہوتے ہیں کیونکہ یہ حقیقی مسائل پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ صارفین متبادل تلاش کر رہے ہیں اور نہ صرف خود چھوڑ جائیں گے بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے جائیں گے۔ چونکہ یہ ہوٹلز تیز رفتار کسٹمر سروس اور جدت کے لیے تیار نہیں، اس لیے جب متبادل سامنے آئیں گے تو انہیں اپنا حصہ واپس حاصل کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔ ایسی صنعتوں کے رہنما صرف مارجنز کو دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ کچھ درست کر رہے ہیں، مگر جیسے ہی پھنسے ہوئے صارف اس جبری تعلق سے نکلیں گے، وہ “درست کام” بے معنی ہو جائے گا۔

افراد کی ترقی کو نظرانداز کرنا— پاکستان کی کئی کامیاب کمپنیوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ “ہمارے لوگ منافع کمانے کے لیے کافی ہیں، تو انہیں تربیت دینے کی کیا ضرورت ہے؟” یہ ذہنیت خاص طور پر بڑے کاروباری گروپس میں غالب ہے۔ دوسری نسل کے خاندانی کاروبار ایچ آر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ شعبے تو قائم کر چکے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کا کردار زیادہ تر انتظامی ہے، اسٹریٹجک نہیں۔ زیادہ سے زیادہ وہ اعلیٰ سطح کے افراد کے لیے کبھی کبھار کورسز کرا دیتے ہیں، لیکن تمام درجات میں افراد کی مجموعی ترقی کے لیے کوئی جامع حکمتِ عملی موجود نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں، جب سرمایہ دستیاب ہوتا ہے تو وہ اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بہت کم کمپنیاں اپنی اعلیٰ قیادت کو اس قابل بنا سکی ہیں کہ وہ بیرونِ ملک ڈسٹری بیوٹرز کو سپلائی کرنے سے آگے سوچ سکیں۔ ایک اعلیٰ معیار کی ٹی شرٹ جو ڈسٹری بیوٹر کو تقریباً 3 ڈالر میں فروخت ہوتی ہے، وہی کسی برانڈ کے تحت 50 سے 100 ڈالر تک میں فروخت ہوتی ہے۔ اگر یہ کمپنیاں اپنی ترقی پر سرمایہ کاری کرتیں اور اپنی برانڈز بنانے کی صلاحیت پیدا کرتیں تو امکانات اور منافع کئی گنا بڑھ سکتے تھے۔ اس کے برعکس، وہ ملازمین کو محض ” ورکرز“ سمجھتی ہیں اور ان کی ذہنی و فکری ترقی پر کم توجہ دیتی ہیں۔ اس محدود سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زیادہ تر خاندانی کاروبار تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے زوال کا شکار ہونے لگتے ہیں۔

مسابقت کو کم تر سمجھنا— نقصان دہ منافع مارکیٹ میں دور اندیشی کا فقدان (مارکیٹ مایوپیا) پیدا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب و رسد کے عدم توازن کے باعث جب منافع بڑھتا ہے تو کمپنیاں خود پسندی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی بڑی اور کامیاب کمپنیوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔ نوکیا کی مثال اس حوالے سے کلاسک سمجھی جاتی ہے کہ اعداد و شمار کس طرح گمراہ کن ہو سکتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہینڈ ہیلڈ ڈیوائسز کے لیے نوکیا تقریباً ایک عام نام بن چکا تھا، مگر پھر وہ اپنی ہی کامیابی کا شکار ہو گیا۔ 2007 میں عالمی موبائل فون مارکیٹ کے تقریباً 50 فیصد حصے سے لے کر 2013 میں اپنے ہینڈ سیٹ بزنس کو مائیکروسافٹ کے حوالے کرنے تک، یہ کہانی واضح کرتی ہے کہ منافع اور آمدنی کس طرح واضح حقائق سے آنکھیں بند کر دیتے ہیں۔ نوکیا تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہارڈویئر پر مبنی، فیچر سے بھرپور فونز سے سافٹ ویئر اور ایکو سسٹم پر مبنی اسمارٹ فونز کی جانب منتقلی کو بروقت سمجھ نہ سکا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے، مارکیٹنگ کے قبرستان ایسے برانڈز سے بھرے پڑے ہیں جو سمجھتے تھے کہ وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔

ضرورت پر لالچ کا غلبہ— منافع کا ایک اور جال یہ ہے کہ جب موقع ملے تو زیادہ سے زیادہ کمانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ طلب میں اضافے کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا اور بڑی سے بڑی معتبر کمپنیاں بھی اس میں پھنس جاتی ہیں۔ ٹویوٹا ایک ایسا نام تھا جسے ” ہر سفر میں قابلِ اعتماد “ ( رئیلایبلٹی ان موشن) کہا جاتا تھا۔ اسی صدی کے آغاز میں امریکی مارکیٹ میں جنرل موٹرز کو مشکلات کا سامنا تھا۔ اس موقع پر جی ایم کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی نمبر ون کار کمپنی بننے کی خواہش بہت مضبوط تھی، چنانچہ توسیع انتہائی تیزی سے کی گئی۔ جب مقدار اہم ہو جائے تو معیار پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایک معمولی خرابی— جیسے کار کے فرش پر موجود میٹس کا پیڈل میں رکاوٹ بننا— سنگین حادثات کا سبب بنی۔ 2010 میں کمپنی کو 90 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانا پڑیں۔ اس واقعے نے نہ صرف گاڑیوں کے ایکسیلیریٹرز کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر مجبور کیا بلکہ عالمی مارکیٹ پر قبضے کی تیز رفتار دوڑ کو بھی سست کر دیا۔

کاروبار کا مقصد منافع کمانا ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کس قیمت پر؟ درحقیقت، اہم سرمایہ کاری کو محض اخراجات قرار دینے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک کاروباری مالک سے پوچھا کہ وہ مشینری پر لاکھوں کی سرمایہ کاری کرنے میں تو مطمئن ہوتے ہیں مگر لوگوں پر چند ہزار خرچ کرنے میں ہچکچاتے کیوں ہیں؟ وہ مسکرایا اور بولا، ”کیونکہ مشینیں ہمیں چھوڑ کر نہیں جائیں گی، لوگ چلے جاتے ہیں۔“ آخرکار یہی محدود سوچ کاروبار کی ترقی کو محدود کر دیتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف