ایس ای سی پی نے غیر ملکی کمپنیوں کی تحلیل سے متعلق غلط رپورٹ شدہ ڈیٹا کی وضاحت کردی
- کمیشن کا کہنا ہے کہ 2022-2025 کے دوران صرف 19 غیر ملکی کمپنیوں نے پاکستان میں کام بند کیا
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ( ایس ای سی پی) نے پیر کو وضاحت کی کہ بعض میڈیا رپورٹس نے اس کی ویب سائٹ پر دستیاب غیر ملکی کمپنیوں کی بندش سے متعلق ڈیٹا کو غلط انداز میں پیش کیا ہے، اور کہا کہ یہ رپورٹس حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتیں، خصوصاً بندش کے سال کے حوالے سے۔
اپنے ایک بیان میں ریگولیٹر نے کہا کہ اس کی ویب سائٹ پر شائع کردہ فہرست میں ہر کمپنی کے نام کے ساتھ بندش کا سال واضح طور پر درج ہے تاکہ معلومات کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس ای سی پی کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران پاکستان میں صرف 19 غیر ملکی کمپنیوں نے کام بند کیا، جبکہ اسی عرصے میں 79 نئی غیر ملکی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا 125 غیر ملکی کمپنیوں کا عدد دراصل 1977 سے اب تک بند ہونے والی کمپنیوں کی مجموعی تعداد ہے اور اس کا تعلق صرف گزشتہ تین برسوں سے نہیں ہے۔
کمیشن نے یہ بھی بتایا کہ صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران 82 مقامی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی۔ یہ سرمایہ کاری مختلف ممالک سے آئی، جن میں چین، امریکہ، آسٹریلیا، ترکی، برطانیہ، جنوبی افریقہ، ڈنمارک، جرمنی، ملائیشیا، جنوبی کوریا اور اسپین شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فروری 2026 تک مجموعی طور پر 1,157 غیر ملکی کمپنیاں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جو پاکستان میں غیر ملکی کاروباری موجودگی کے تسلسل اور ریگولیٹری ماحول پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔


Comments